Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

حکومت کی انقلابی شوگر پالیسی تیاری کے مراحل میں 

SAMAA | - Posted: Dec 15, 2021 | Last Updated: 5 months ago
Posted: Dec 15, 2021 | Last Updated: 5 months ago

وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ جب وہ وزیرصنعت تھے تو اس وقت وزیراعظم نے ایک شوگر ریفارم کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی رپورٹ آج پیش کردی گئی ہے۔ 

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کسانوں اور ملز مالکان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے انٹرویوز کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ انڈسٹری نہ تو ریگولیٹڈ ہے اور نہ ڈی ریگولیٹڈ یعنی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کبھی چینی کا بحران پیدا ہوتا ہے تو کبھی وہ سرپلس ہوجاتی ہے۔ 

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ شوگر ریفارم کمیٹی نے اب یہ تجویز دی ہے کہ اس سیکٹر کو مارکیٹ فورس پر چھوڑ کر ڈی ریگولیٹ کیا جائے اور سال کے 12 مہینے کے لیے ریفائن اور خام مال پر ایک ٹیکس فری پالیس بنائی جائے جو ایک مستقل قانون رہے۔  

انہوں نے کہا جب لوکل شوگر انڈسٹری چینی کی قیمت بین الاقوامی منڈی سے زیادہ کرے گی تو امپورٹ شروع ہوجائے گی۔ 

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ان تجاویز پر کابینہ بحث کے بعد فیصلہ کرے گی۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ یہ بھی تجویز ہے کہ کسانوں کو صرف گنے کی وزن کے حساب سے بھی قیمت نہیں ملنی چاہیے بلکہ باقی عوامل کو بھی دیکھنے چاہئیں۔ 

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ شوگر ملز زون میں لائسنسنگ کی شرط بھی ختم کرنے کی تجویز ہے کیوں کہ اگر کوئی وہاں منی شوگر مل لگانا چاہے تو ان کو اجازت ہونی چاہیے جبکہ چینی پر فکسڈ پرائس بھی حتم کرنے کی تجویز ہے۔ 

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ہم کسانوں کو کسی بھی طرح سے مجبور کرنا نہیں چاہتے کیوں کہ ان کو جس فصل کا بہتر فائدہ ہوتا ہے انہیں وہی فصل لگانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 2 کامیاب ترین فصلوں میں چاول اور مکئی شامل ہیں مگر اس میں حکومت کی کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں ہے۔  

انہوں نے کہا کہ گنے کو آپ اسٹور نہیں کرسکتے مگر چینی اسٹور بھی ہوتی ہے اور امپورٹ بھی اور جب کرشنگ کا وقت آتا ہے تو شوگر ملز کرشنگ روک کر اپنے مطالبات منوانے کےلیے کسانوں کو یرغمال بنالیتے ہیں، اب فیصلہ ہوا ہے کہ کرشنگ کی تاریخ کے علاوہ حکومت کا عمل دخل نہیں ہوگا اور اگر ملز کو امپورٹ کو ضرورت ہے تو اپنے لیے یہ کام کرسکیں گی۔ 

ملک میں جاری گیس قلت کے حوالے سے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اس سال گزشتہ سال کے بہ نسبت لوڈ شیڈنگ کم ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ لوکل گیس کی پیداور ہر سال 9 فیصد کم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کی پیداور سن 2010 سے 2 ہزار ای سی ایف سے کم ہوکر 800 رہ گئی ہے۔ 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube