Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  16

پی ایس ایل کا بورڈ الگ ہونا چاہئے، چیئرمین پی سی بی احسان مانی

SAMAA | - Posted: Nov 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی کہتے ہیں کہ پی سی بی میں 900 سے زائد ملازمین ہیں، ملازمین کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا بورڈ ہے، اس لیے ہمیں بورڈ کے سسٹم اور گورننس میں بہتری لانا ہوگی۔

ٹیلیویژن کو اپنے پہلے انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ چیئرمین بنا تو بورڈ کا ماحول بہت اچھا نہیں تھا، بورڈ میں اسٹاف کا مورال گرا ہوا تھا، لوگوں کے فون ٹیپ ہونے کی اطلاعات تھیں۔

انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس کے تحت نجم سیٹھی کی تفصیلات جاری کیں، اب اپنے اخراجات کی رپورٹ بھی پیش کروں گا، نجم سیٹھی نے نوٹس بھیجا تھا، سچائی سامنے آجائے گی۔

چیئرمین پی سی بی نے کہ نجم سیٹھی کے الزامات بے بنیاد ہیں، وزیراعظم عمران خان سے بہتر کرکٹ کوئی نہیں جانتا، وہ کرکٹ کی بہتری چاہتے ہیں سابق کھلاڑیوں کی رائے ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کا بورڈ الگ ہونا چاہئے، سپر لیگ کے آغاز میں کنٹریکٹ طریقہ کار کے تحت نہیں دیے۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ 2019 میں سرفراز ہی قیادت کریں گے، سرفراز ہی کپتان ہیں وہی کپتان رہیں گے، سرفراز کی کپتانی کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سیریز ہارنے پر لوگ کپتان کے پیچھے پڑجاتے ہیں، اظہر علی نے ون ڈے سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ خود کیا، اظہر علی کے فٹنس کے کچھ مسائل تھے۔

چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ کرکٹ کمیٹی کا کام سلیکشن کرنا نہیں، کمیٹی کی سفارشات سے بطور چیئرمین فائدہ ہوگا۔

احسان مانی نے کہا کہ میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کرکٹ کیلئے بڑا خطرہ ہے، بھارت بک میکرز کی بڑی مارکیٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، آئی سی سی اور کرکٹ بورڈز بکیز کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں، بکیز کو پکڑنا بورڈ کا نہیں، قانونی اداروں کا کام ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی کھلاڑیوں کو زبردستی پاکستان نہیں لاسکتے، سپرلیگ اچھا برانڈ ہے، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بہت ضروری ہے۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ باہمی سیریز پر بھارتی بورڈ سے بات کرنی چاہئے تھی، آئی سی سی ڈسپیوٹ کمیٹی کے فیصلے کا انتظار ہے، باہمی سیریز کیلئے کسی کیساتھ زبردستی نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط کرنا ہے، فکسنگ کیخلاف آئی سی سی سے مل کر کام کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کہ وسیم اکرم کے تجربہ سے دنیا فائدہ اٹھارہی ہے، ہم وسیم اکرم کے تجربہ سے فائدہ کیوں نہ اٹھائیں، جاوید میانداد کی بہت عزت کرتا ہوں، کسی کا پریشر لیتا ہوں نہ ہی لوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم میں سارے کھلاڑی ہی میرے فیورٹ ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube