Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

جامعہ کراچی میں نجی سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی، آخر کیوں؟

SAMAA | - Posted: May 12, 2022 | Last Updated: 4 days ago
Posted: May 12, 2022 | Last Updated: 4 days ago

طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے 3 کارکنوں کے 1989ء میں قتل کے بعد اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے جامعہ کراچی میں رینجرز کو تعینات کیا تھا۔ رینجرز اہلکاروں کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے آئین کے آرٹیکل 147 میں ترمیم کے بعد انتظامیہ کی مدد کیلئے کراچی یونیورسٹی بھیجا گیا۔

آج جامعہ کراچی میں رینجرز کا ایک مکمل ونگ کام کررہا ہے، اس ونگ میں تعینات اہلکاروں کی رہائش کا انتظام جامعہ ہی کے اولڈ بوائز ہاسٹل میں کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اس ونگ کے کمانڈر کو بھی جامعہ کراچی کے اندر ہی اے کیٹیگری کا بنگلہ رہائش کیلئے دیا گیا ہے۔

عموماً اے کیٹیگری کی رہائش جامعہ کراچی کی اعلیٰ ترین انتظامی شخصیات کو فراہم کی جاتی ہے۔ جامعہ کراچی نے یہ تمام اقدامات کیمپس میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اٹھائے، مگر مادر علمی میں رینجرز کی تعیناتی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی، کیمپس میں رینجرز کی موجودگی میں بھی خونریزی کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

چھبیس اگست 2008ء میں طلبہ تنظیموں کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں 3 طلبہ جاں بحق جبکہ 10 زخمی ہوئے، اسی طرح 27 دسمبر 2010ء کو جامعہ کراچی کی مرکزی کینٹین کے باہر دھماکا ہوا تھا جس میں 4 طلبہ زخمی ہوئے اور حال ہی میں 26 اپریل کو ایک خاتون خودکش حملہ آور نے چینی اساتذہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 غیر ملکی اساتذہ اور ان کا ڈرائیور جاں بحق ہوئے۔

دہشت گردی کی ہر کارروائی کے بعد جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے سیکیورٹی انتظامات کی بہتری کیلئے اجلاس بلائے اور کئی فیصلے بھی کئے، مگر عملی طور پر ان کا کوئی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔

 گزشتہ ماہ ہونیوالے خودکش حملے کے بعد ایک بار پھر جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے سیکیورٹی بہتر بنانے کیئے چند فیصلے کئے جن میں نجی سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کرنا بھی شامل ہے۔

کیمپس کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کیلئے نجی گارڈز کی تعیناتی کوئی نیا آئیڈیا نہیں، جامعہ کراچی میں جب جب کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا فیصلہ نجی گارڈز کی تعیناتی کا ہی کیا گیا لیکن اس مرتبہ اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شیخ الجامعہ کے مشیر برائے سیکیورٹی امور ڈاکٹر محمد زبیر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ انتظامیہ نے نجی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر زبیر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ نجی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ 6 ماہ قبل کیا گیا تھا اور اس ضمن میں انتظامیہ نے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کرائے تھے، جس پر 6 کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی تھی، درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد 2 کمپنیوں کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن اس سلسلے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔

مشیر سیکیورٹی امور نے وضاحت کی کہ یہ تمام معاملات ان کی اس عہدے پر تقرری سے قبل طے ہوچکے تھے، اب انہیں سیکیورٹی کیلئے کسی ایک کمپنی کو منتخب کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی ان کمپنیوں کے عہدیداران سے ملاقات کرکے ان سے پوچھیں گے کہ جامعہ کراچی کی سیکیورٹی فول پروف بنانے میں کیسے مفید ثابت ہوں گے۔

ڈاکٹر زبیر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں منتخب سیکیورٹی کمپنی کے 30 اہلکار یونیورسٹی میں تعینات کئے جائیں گے۔

جامعہ کراچی میں نجی گارڈز کی تعیناتی کیوں؟

ڈاکٹر زبیر نے بتایا کہ جامعہ کراچی میں 120 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ہر وقت گارڈز کی موجودگی لازمی ہے، مثال کے طور پر ایڈمنسٹریشن بلاک، شعبہ امتحانات، سیمسٹر سیل، طلبہ و طالبات کے ہاسٹلز ایسے مقامات ہیں، جہاں ہر وقت سیکیورٹی ہونی چاہئے۔

ان کے مطابق یونیورسٹی کے اپنے 146 گارڈز ہیں جو 3 شفٹوں میں تعینات کئے جاتے ہیں، ہر شفٹ میں 40 کے لگ بھگ گارڈز خدمات سرانجام دیتے ہیں، ایک گارڈ کیمپس میں واقع 4 سے 5 عمارات کی نگرانی کرتا ہے اور اس ایک گارڈ سے بہتر نتائج کی توقع رکھنا مناسب نہیں، نجی گارڈز کی تعیناتی سے صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے۔

رینجرز کی موجودگی میں نجی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر زبیر نے کہا کہ بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکار کیمپس میں اپنی تفویض کردہ ذمہ داریاں بااحسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں، چند سال قبل شہر میں جا بجا رینجرز کی چوکیاں تھیں لیکن حالات بہتر ہونے پر انہیں ختم کردیا گیا۔

ڈاکٹر زبیر کا کہنا تھا کہ یہ مناسب نہیں لگتا کہ تعلیم کے حصول کیلئے آنے والے طلبہ کا جامعہ میں استقبال ایک مسلح رینجرز اہلکار کرے، وردی کا وقار ہے جو برقرار رہنا چاہئے، رینجرز کیمپس کے اندر وقفے وقفے سے گشت کرتے ہیں اور نقص امن کی صورت میں فوری جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں۔

اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے مشیر سیکیورٹی امور کا کہنا تھا کہ رینجرز پس پردہ رہ کر اپنے فرائض سرانجام دیتی رہے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube