Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  16

بلاول بھٹو آج نواز شریف سے ملاقات کریں گے

SAMAA | - Posted: Apr 21, 2022 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Apr 21, 2022 | Last Updated: 4 weeks ago

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج بروز جمعرات 21 اپریل کو برطرف وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔

دونوں جماعتوں کے سربراہان کے درمیان ملاقات لندن میں ہوگی۔ بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے وفد کے ساتھ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات کیلئے جائیں گے۔

وفد میں نوید قمر، قمرزمان کائرہ، شیری رحمان اور سید خورشید شاہ شامل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اور گورنر پنجاب کے عہدوں سے متعلق مشاورت ہوگی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بلاول بھٹو نے گزشتہ روز وفاقی وزراء کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے باوجود حلف نہیں اُٹھایا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وطن واپسی پر بلاول بھٹو کے حلف اٹھانے کا امکان ہے، جب کہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ حلف محسن داوڑ کی کابینہ میں شمولیت سے مشروط کیا ہے۔

وزیر خارجہ بننے کا امکان

قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) چیئرمین پیپلزپارٹی کو وزیر خارجہ بناکر کابینہ میں شمولیت کی خواہشمند ہے، تاہم آصف علی زرداری بلاول کی بطور وزیر شمولیت کے حق میں نہیں ہیں، جب کہ پیپلزپارٹی کی دیگر سینیر قیادت بھی بلاول بھٹو زرداری کی کابینہ میں شمولیت کی مخالف ہے۔

ڈان لیکس پر نکالے گئے طارق فاطمی کی ایک بار پھر کابینہ میں واپسی

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سابق سفیر سید طارق فاطمی کو معاون خصوصی برائے خارجہ امور تعینات مقرر کردیا ہے۔ وہ اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں ڈان لیکس کی تحقیقات کے نتیجے میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ طارق فاطمی 35 سال سے زائد عرصے تک کیریئر ڈپلومیٹ رہے۔

اس دوران انہوں نے دو مرتبہ ماسکو، نیو یارک، دو مرتبہ واشنگٹن اور بیجنگ سمیت بیرون ملک پاکستانی مشنز میں مختلف سفارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ جون 2013 میں طارق فاطمی کو وزیر مملکت کے عہدے ساتھ وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے امور خارجہ مقرر کیا گیا۔ وہ اس عہدے پر اپریل 2017 تک کام کرتے رہے۔

طارق فاطمی نے الزامات مسترد کیے

اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے سابق معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی نے الوداعی خط میں اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

ہیڈ کوارٹرز کے تمام افسران کے نام لکھے گئے خط میں طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ میں خود پر لگائے جانے والے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں، یہ الزامات ایک ایسے شخص کیلئے تکلیف کا باعث ہیں جو پانچ دہائیوں سے پاکستان کی خدمت کر رہا ہو۔ طارق فاطمی کا مزید کہنا تھا کہ ان برسوں میں مجھے قومی سلامتی کے معاملات سے جُڑے کئی حساس معاملات کو دیکھنا پڑا جن میں کچھ بہت اہم معلومات سے آگاہی بھی شامل تھی۔

ڈان لیکس کیا ہے

انگریزی اخبار ڈان میں صحافی سرل المیڈا کی جانب سے چھ اکتوبر 2016 کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس سے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے معاملے پر عسکری اور سیاسی قیادت میں اختلافات سامنے آئے جس پر سیاسی اور عسکری قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے قومی سلامتی کے منافی قرار دیا۔

Maryam Nawaz takes playful 'sandwiches' swipe at Pervaiz Rashid on way to  Sukkur

بعد ازاں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ اصرار سامنے آیا کہ یہ خبر حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر فیڈ کی گئی تھی۔ اس میں پرویز رشید، طارق فاطمی، اس وقت کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین یہاں تک کہ مریم نواز کا نام بھی لیا جاتا رہا۔ اس خبر کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی گئی۔ خبر روکنے میں ناکامی پر اس وقت کے وزیر اطلاعات پرویز رشید کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس خبر کی اشاعت اور اس سے جُڑے واقعات کو ڈان لیکس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

ڈان لیکس پر کمیشن

ریٹائرڈ جج عامر رضا خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے پانچ ماہ کی طویل محنت کے بعد قومی سلامتی سے متعلق خبر کی اشاعت کے ذمہ داروں کا تعین کر کے اپنی سفارشات 26 اپریل کو وزارت داخلہ کو بھجوا دیں۔ بعد ازاں اس وقت وفاقی وزیر داخلہ کے عہدے پر موجود چوہدری نثار نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران رپورٹ پیش کی۔ نواز شریف نے کمیٹی رپورٹ کے 18 ویں پیرے کی منظوری دیتے ہوئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اپنے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی کو عہدے سے ہٹا دیا جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو اکتوبر میں ہی فارغ کردیا گیا تھا اور ان کی جگہ مریم اورنگزیب کو وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات کا قلم دان سونپا گیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر

اس سلسلے میں جاری ہونے والے اعلامیے کو مسلح افواج کے اس وقت کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں ڈان لیکس سفارشات پر وزیراعظم کے اعلامیے کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

آصف غفور نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ وزیراعظم کا عمل در آمد سے متعلق اعلامیہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات سے ہم آہنگ نہیں ہے اور نہ ہی اس رپورٹ کی سفارشات پر من و عن عمل درآمد کیا گیا ہے اس لیے پاک فوج اس اعلامیے کو مسترد کرتی ہے۔ ڈان لیکس کے معاملے پر دس مئی 2017 کا دن انتہائی اہمیت کا حامل رہا جب وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک نیا اعلامیہ جاری کیا گیا جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ لیا۔ سیاسی قیادت نے نیا اعلامیہ جاری کر کے نامکمل ںوٹی فیکیشن کو ازسرنو ترتیب دیا تو عسکری قیادت نے بھی نئے اعلامیے کو خوش آمدید کہتے ہوئے حکومتی کاوشوں کو سراہا اور سابق ٹویٹ واپس لے لی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے ڈان لیکس پر نئے اعلامیے کے جاری ہونے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے جی ایچ کیو میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نامکمل چیز مکمل ہو گئی ہے اور سیاسی قیادت نے اس حوالے سے بہترین کاوشوں کا مظاہرہ کیا اور تمام غلط فہمیاں دور کیں۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پہلے جو نوٹی فیکیشن جاری کیا گیا تھا وہ نامکمل تھا جو آج نئے اعلامیے کے بعد مکمل ہوگیا ہے اس لیے ٹویٹ واپس لے لیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube