Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

شہبازشریف کے بعد اٹارنی جنرل کا نوازشريف کے ڈاکٹر کو خط

SAMAA | - Posted: Feb 16, 2022 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Feb 16, 2022 | Last Updated: 3 months ago

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے میڈیکل رپورٹ کی تصدیق کےلیے نوازشریف کے ڈاکٹر کو خط لکھ دیا ہے۔

ڈاکٹر ڈيوڈ لارنس کو لکھے گئے خط میں اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ نواز شريف کی ميڈيکل رپورٹ کی تصديق کےلیے پاکستانی ڈاکٹرز کی ٹيم آپ سے ملنا چاہتی ہے۔

خط کے مطابق ڈاکٹر فیاض شال نے صرف ایک طبی معائنہ کر کے رپورٹ ارسال کی ہے، رپورٹس میں نوازشریف کی صحت کی موجودہ صورتحال نہیں بتائی گئی اسلئے ميڈيکل بورڈ رپورٹس کا جائزہ ليے بغير رائے قائم نہيں کر سکتا۔

اس سے قبل شہباز شريف کو لکھے گئے خط  میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نوازشریف شدید بیماری کا کہہ کر بیرون ملک علاج کیلئے گئے تھے مگر میڈیا رپورٹس کے مطابق نواز شریف کبھی اسپتال داخل نہیں ہوئے۔

اٹارنی جنرل کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کی جانچ کیلئے کمیٹی بنائی ہے مگر نواز شریف کے ڈاکٹرز نے میڈیکل بورڈ کو کوئی رپورٹس نہیں دیں، میڈیکل بورڈ نے کہا رپورٹس نہ  ہونے پر نوازشریف کی صحت پر حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔

 واضح رہے کہ اس سلسلے میں یکم فروری کو نواز شریف کی 3 صفحات پر مشتمل طبی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی تھی جس ميں ڈاکٹرز نے سابق وزیراعظم کو سفر کرنے سے روک دیا تھا۔

تین صفحات پر مشتمل رپورٹ ڈاکٹر فیاض شال کی جانب سے تیار کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف انجیو گرافی کے بغیر لندن سے نہ جائیں تاہم پنجاب حکومت کے 9 رکنی میڈیکل بورڈ نے نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس نامکمل قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

میڈیکل بورڈ کے مطابق ڈاکٹر فیاض شال نے صرف نوازشریف کی صحت پرتحریر بھیجی ہے کسی میڈیکل ادارے یا لیبارٹری کی میڈیکل رپورٹس ساتھ موجود نہیں ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube