Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

فیصل واوڈا کو نااہلی پراسٹےملےگا یا نہیں،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

SAMAA | - Posted: Feb 16, 2022 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 16, 2022 | Last Updated: 3 months ago

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹرفیصل واوڈا کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہلی پر اسٹے ملے گایانہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل واوڈا کی نااہلی کا فیصلہ چیلنج کرنے کی سماعت ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔ فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

وسیم سجاد نے دلائل دئیے کہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی نشست پر فیصلہ دیا اور62 ون ایف کے تحت فیصلہ سنایا۔

فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ انھوں نے کہا کہ فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی قومی اسمبلی کے تھے اور وہ  اسمبلی کی نشست چھوڑ کر سینیٹر بن چکے تھے، الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں کہ وہ نا اہلی کا آرڈر جاری کرے اور الیکشن کمیشن کوئی کورٹ آف لاء نہیں ہے۔ وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن 62ون ایف کے تحت فیصلہ نہیں دے سکتا،سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں کہ الیکشن کمیشن ایسا فیصلہ نہیں کرسکتا اور فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں بیان حلفی جمع کرایا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ آپ تکنیکی بنیادوں پر بات کررہے ہیں، کیس 3سال سے چل رہا تھا، آپ بتائیں کہ الیکشن کمیشن نےحقائق کی کیا خلاف ورزی کی؟ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بیان حلفی کسی بھی وقت غلط نکلا تو نتائج ہونگے، کیا فیصل واوڈا نے نیک نیتی ثابت کی کہ انہوں نے جھوٹا بیان حلفی نہیں دیا؟ فیصل واوڈا نے جس ملک کی شہریت چھوڑی تھی اس کا سرٹیفکیٹ لگا دیتے، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ کا فیصلہ تھا کہ بیان حلفی جمع کرانے ہیں، الیکشن کمیشن فیصلے کوماننے کا پابند ہے اور ہم بھی، جمع کروایا گیا بیان حلفی جھوٹا تھا یا سچا، کیا الیکشن کمیشن اس معاملے کو سپریم کورٹ بھیجتا؟۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ عدالت ہمیشہ منتخب نمائندوں کے کیسز لینے سے گریز کرتی ہے اور یہاں معاملہ سپریم کورٹ کے 5رکنی بنچ کے فیصلے پر عمل کا ہے۔

عدالت کی جانب سے استفسار کیا کہ کیا فیصل واوڈا کل ہمیں دوسری شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں؟۔ اس پر ان کے وکیل نے بتایا کہ فیصل واوڈا وکیل نہیں، انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق ذمہ داری نبھائی، فیصل واوڈا نے دوسرا پاسپورٹ منسوخ کروا کر جمع کرا دیا تھا، فیصل واوڈا نے نادرا سے سرٹیفکیٹ بھی لیا کہ وہ اب صرف پاکستانی ہیں، فیصل واوڈا کو تو بس وکیل نے کہا تھا کہ کچھ اور دستاویز پر دستخط کرنے ہیں، فیصل واوڈا نے اپنی دانست کے مطابق جان بوجھ کر کوئی جھوٹ نہیں بولا۔

عدالت نے مزید استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے بیان حلفی والے فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟۔ فیصل واوڈا کے وکیل نے بتایا کہ فیصلے کے نتائج قومی اسمبلی کی نشست والے الیکشن پر ہی ہونگے،فیصلے کے تحت فیصل واوڈا نے قومی اسمبلی کی نشست پر نااہل ہونا تھا، وہ نشست چھوڑ دینے کے بعد الیکشن کمیشن تاحیات نااہل نہیں کرسکتا۔

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ سیاسی شخص کیلئے تاحیات نااہلی سزائے موت کے مترادف ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگر ایسا ہے تو یہ سزائے موت کئی سیاستدانوں کو مل چکی ہے، پارلیمنٹ نے اس کے باوجود یہ آرٹیکل رکھا ہوا ہےاور سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ تھا کہ پارلیمنٹ اس آرٹیکل کو نکالے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

دائر درخواست میں فیصل واوڈا کا موقف

دائر درخواست میں فیصل واوڈا نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔الیکشن کمیشن کو بارہا کہا کہ نااہلی درخواست سننا اس کا اختیار نہیں۔

الیکشن کمیشن کو بارہا یہ بھی بتایا کہ کمیشن کورٹ آف لاء نہیں ہے اور الیکشن کمیشن میں جان بوجھ کرکوئی جھوٹا بیان حلفی نہیں دیا۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالے بھی نہیں دیا۔

الیکشن کمیشن کا فیصلہ

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ 9 فروری کو فیصلہ سنایا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو نااہل قراردیتے ہوئے 2 ماہ میں تمام تنخواہیں اور مراعات واپس جمع کرانے کا حکم دیا ۔ اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کی بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹی فیکیشن بھی واپس لیا جاتا ہے۔  فیصل واوڈا کا بطور رکن اسمبلی مستعفی ہو کر سینیٹ الیکشن لڑنا مشکوک تھا۔ بطور ایم این اے ووٹ ڈالنے کے بعد خود کو بطور سینیٹ امیدوار پیش کردیا۔

ای سی پی کے مطابق جوابدہ نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط حلف نامہ جمع کرایا، انہوں نےخود کو اپنے کنڈکٹ سے مشکوک بنایا، جھوٹا بیان حلفی دینے پر وہ آرٹیکل 62 ون ایف کا شکار ہوئے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی نااہلی کیس کا فیصلہ 23 دسمبر کو محفوظ کیا تھا، جو 9 فروری کو سنایا گیا۔

فیصل واوڈا پر الزام تھا کہ انہوں نے بطور امیدوار قومی اسمبلی ریٹرننگ افسر کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اپنی امریکی شہریت چھپائی تھی۔ الیکشن کمیشن کے بار بار پوچھنے پر بھی فیصل واوڈا نے امریکی شہریت چھوڑنے کی تاریخ نہیں بتائی تھی۔

فیصل واوڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا اور دہری شہریت چھپائی۔ حکومتی رہنما نے جائیدادوں کی خریداری کے ذرائع بھی چھپائے، انہوں نے نہ تو منی ٹریل دی اور نہ ہی ٹیکس ادا کیا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن میں یہ درخواستیں 2 سال قبل 21 جنوری 2020 کو مخالف امیدوار عبدالقادر مندوخیل، میاں فیصل اور آصف محمود کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جب کہ سماعت کا باقاعدہ آغاز 3 فروری 2020 کو ہوا۔

الیکشن کمیشن میں سماعتوں کے دوران فیصل واوڈا نے بتایا تھا کہ عام انتخابات کے وقت ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوا تو منسوخ شدہ امریکی پاسپورٹ دکھایا تھا جس پر کلیئرنس ملی، نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت سیز کردی تھی۔ الیکشن کمیشن میں درخواست گزاروں نے سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی جمع کرائی جس کے مطابق فیصل واوڈا نے 25 جون 2018 کو امریکی شہریت چھوڑی تاہم فیصل واوڈا نے اس کاپی کو تسلیم نہیں کیا ۔

الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا سے امریکی شہریت چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ کا استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا انہیں پاکستان یا امریکا کے قانونی پیپر ورک کا زیادہ علم نہیں۔ درخواست گزاروں نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ وہ خود امریکی سفارتخانے سے سرٹیفکیٹ کے لیے رابطہ کر لے تاہم الیکشن کمیشن نے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ یہ اس کا اختیار نہیں۔

فیصل واوڈا نے سینیٹر منتخب ہونے کے بعد یہ استدعا بھی کی کہ یہ درخواستیں اس وقت کی ہیں جب وہ ممبر قومی اسمبلی تھے، اب انہیں مسترد کیا جائے، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے 6 دسمبر کو الیکشن کمیشن کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

گزشتہ سال فیصل واوڈا کی نااہلی کے لیے دائر ایک درخواست عدم پیروی پر خارج کردی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نومبر 2021 میں پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل واوڈا کی نااہلی کیس الیکشن کمیشن کو 60 دن میں فیصلہ سنانے کی ہدایت کی تھی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube