Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

ججز،بیوروکریٹس اورافسران کیلئےخصوصی سیکٹرزمیں پلاٹس کی اسکیم غیرآئینی قرار

SAMAA | - Posted: Feb 3, 2022 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 3, 2022 | Last Updated: 3 months ago
[caption id="attachment_2200309" align="alignnone" width="640"] فائل فوٹو[/caption]

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججوں، بیوروکریٹس اور افسران کیلئے خصوصی سیکٹرز میں پلاٹس کی اسکیم غیرآئینی قرار دے دی ہے۔

چیف جسسٹس اطہر من اللہ اورجسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسلام آباد کے ایف12 ،جی 12، ایف 14اور15 کی اسکیم ہی غیرآئینی،غیرقانونی اورمفاد عامہ کے خلاف ہے۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ ریاست کی زمین اشرافیہ کیلیے نہیں بلکہ صرف عوامی مفاد کیلئےہے۔ جج، بیورکریٹس،پبلک آفس ہولڈرز مفاد عامہ کے خلاف ذاتی فائدے کی پالیسی نہیں بناسکتے،جج اور بیوروکریٹس اصل اسٹیک ہولڈر یعنی عوام کی خدمت کیلیے ہیں۔

یہ بھی کہا گیا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائزہاؤسنگ اتھارٹی آئین کے خلاف کوئی اسکیم نہیں بناسکتی ہے۔

اسلام آبادہائی کورٹ نے سیکرٹری ہاؤسنگ کو 2 ہفتے میں فیصلہ کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دیا اور کہا کہ توقع ہے کہ کابینہ اور وزیراعظم چاروں سیکٹرز سے متعلق مفاد عامہ کے تحت  پالیسی بنائیں گے۔

ہائیکورٹ کےفیصلے میں بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ پالیسی میں وکلا اور صحافیوں کو نکال دیا جانا بھی قابل غور پہلو ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ نے کبھی پلاٹس پالیسی میں شمولیت کی درخواست نہیں دی اور کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ بغیردرخواست کے پالیسی میں کیوں شامل کیا گیا۔

اعلی عدلیہ اورماتحت عدلیہ کے ججز کو پلاٹس کے بینفشری بنانے پر ہائی کورٹ نے سوالات اٹھادئیے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہاؤسنگ اتھارٹی سپریم کورٹ سمیت دیگر عدالتوں میں زیر التوا کیسز میں بنیادی فریق ہوتی ہے،کیا سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کو وفاقی حکومت کا بینیفشری بنا دینا مناسب تھا؟۔

اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ نے کبھی پلاٹس پالیسی میں شمولیت کی درخواست نہیں دی، کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ بغیر درخواست کے پالیسی میں کیوں شامل کیا گیا اور حیران کن طور پر پلاٹس کے بینیفشریز میں اعلیٰ عدلیہ کے موجودہ اورریٹائرڈ ججز بھی شامل ہیں۔

مزید یہ بھی فیصلے میں درج ہے کہ کم سن گھریلو ملازمہ پرتشدد کے کیس میں سزا یافتہ جج بھی پلاٹ لینے والوں میں شامل ہیں۔رشوت وصولی کے اعتراف پر برطرف جج سمیت اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کا ہر جج پلاٹس سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہے۔

نااہل اور خراب ساکھ پر زیر نگرانی رکھے گئے جج بھی پلاٹس لینے والوں میں شامل ہیں اور انضباطی کارروائی پر برطرف کئے گئے جج کا نا بھی پلاٹس لینے والوں میں شامل ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube