Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

ہرنائی زلزلے میں اموات کم رپورٹ ہوئیں، صوبائی وزیر

SAMAA | - Posted: Oct 8, 2021 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 8, 2021 | Last Updated: 7 months ago
[caption id="attachment_2402969" align="alignnone" width="800"] فوٹو: اے ایف پی[/caption]

صوبائی وزیر پی ایچ ای اور واسا نور محمد دمڑ کا کہنا ہے کہ ہرنائی زلزلے میں سرکاری طور پر جاں بحق اور زخمیوں کی تعداد کم رپورٹ کی گئی، زلزلے میں شہید ہونیوالوں کی تعداد زیادہ ہے، ملکی اور غیر ملکی ڈونر ایجنسیاں ہرنائی کے عوام کی مدد کیلئے آگے آئیں۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر پی ایچ ای اور واسا کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کی رات 3 بجے ضلع ہرنائی میں شدید زلزلہ آیا، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں، جس پر مجھے انتہائی دکھ اور افسوس ہے۔

نور محمد دمڑ کا کہنا تھا کہ غیرسرکاری تنظیموں، ملکی اور غیرملکی ڈونر ایجنسیوں اور مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ زلزلہ متاثرین کی دوبارہ بحال کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں اور ساتھ میں مرکزی اور صوبائی حکومت سے بھی زلزلے میں تباہ شدہ مکانات کی تعمیر کیلئے اور متاثرین کی پوری بحالی کیلئے مالی امداد کیلئے فنڈز کا مطالبہ کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں حلقے کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، زلزلہ متاثرین کی مکمل بحالی تک ان کا ساتھ دیں گے۔ اپنی ہی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے نور محمد دمڑ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہرنائی میں 200 کے قریب مکانات سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے، جن کی بحالی کیلئے حکومت کی جانب سے فی گھر معاوضہ دینے کا اعلان ہوا لیکن افسوس وہ اعلان صرف اعلان ہی رہا۔

انہوں نے کہا کہ میری بار بار یادہانی اور کوشش کے بعد فی گھر 5 ہزار روپے منظور کئے گئے جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، ہرنائی کے لوگ بھکاری نہیں بلکہ وہ قبائلی اورعزت دار لوگ ہیں، اس بار زلزلہ متاثرین کو کم سے کم 30 سے 40 لاکھ روپے فی گھر دیئے جائیں تاکہ وہ اپنے گھر اور دکانیں دوبارہ تعمیر کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں شدید زلزلہ،20 افراد جاں بحق

نور محمد دمڑ کا کہنا ہے کہ ہرنائی زلزلے میں سوشل میڈیا، ٹی وی چینلز اور  سرکاری طور پر جاں بحق اور زخمیوں کی تعداد کو کم رپورٹ کیا گیا ہے، زلزلے میں شہید ہونیوالوں کی تعداد زیادہ ہے، کم از کم 40 سے 50 افراد زلزلے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں نے گرمی کی وجہ سے اپنے پیاروں کو بغیر رپورٹ کئے ہی دفن کردیا تھا، جس کی وجہ سے سرکاری طور پر زلزلے میں جاں بحق افراد کم رپورٹ ہوئے، دورہ شاہراگ کے دوران میرے علم میں آیا کہ یہاں بھی 3 بچے زلزلے سے جاں بحق ہوئے لیکن ان کے نام ریکارڈ میں شامل نہیں ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube