Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

بھارت افغان عوام دشمن اقدامات چھوڑ دے، سہیل شاہین

SAMAA | - Posted: Aug 12, 2021 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 12, 2021 | Last Updated: 9 months ago

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان میں ایک ایسی حکومت کی حمایت و مدد کر رہا ہے جو افغان عوام کی نمائندہ نہیں۔

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے افغان حکومت کو اسلحہ کی فراہمی افغان عوام کے ساتھ دشمنی ہے بھارت کو ایسے اقدامات چھوڑ دینے چاہیے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ موجودہ افغان حکومت عوام کی نمائندہ حکومت نہیں بلکہ ایک قابض قوت کی جانب سے افغان عوام پر مسلط کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا روز اول سے یہی موقف ہے کہ تمام افغان فریقین سے بات کرکے ایک ایسی متفقہ حکومت تشکیل دی جائے جو سب کے لیے قابل قبول ہو لیکن کابل انتطامیہ کے ساتھ ہم بحیثیت حکومت کوئی بات نہیں کریں گے۔

قطر میں جاری انٹرافغان مذاکرات سے متعلق سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ اس میں حکومت ایک فریق کے طور پر شریک ہے اور اس کے علاوہ اس میں افغانستان کی تمام سیاسی رہنما اور سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی ہے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ اشرف غنی کے ساتھ ہمارا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے اور اگر اس کی جگہ کوئی اور بھی حکومت میں ہوتا تو ہم اسے بھی تسلیم نہیں کرتے کیوں کہ ہماری تو جدوجہد اس نظام کے خلاف ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک سال جو مذاکرات ہورہے ہیں اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم کسی نئی حکومت پر متفق ہوجائیں تو اس موجودہ نظام کی جگہ لیں۔

رشید دوستم کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ان کے بیانات مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں اور وہ اس وقت اپنے گھر یا آبائی صوبے بھی نہیں جاسکتے ان کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا پڑوسی ہے جہاں 4 دہائیوں سے لاکھوں مہاجرین مقیم ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان افغان امن عمل کا حصہ رہے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ پاکستان سے ہمارا ثقافتی اور اسلامی رشتہ ہے اور افغانستان کے حالات کا ہمیشہ سے پاکستان پر اثر ہوتا ہے اس لیے ہمارا موقف ہے کہ بین الاقوامی فورمز پر افغانستان سے متعلق معامالت میں پاکستان کو کرادر ادا کرنا چاہیے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube