Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

افغان طالبان کوپناہ گاہیں دینےکاالزام احمقانہ ہے،وزیراعظم

SAMAA | - Posted: Jul 28, 2021 | Last Updated: 10 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 28, 2021 | Last Updated: 10 months ago
[caption id="attachment_2271024" align="alignnone" width="800"]PM Imran khan فوٹو: ریڈیو پاکستان[/caption]

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان دوبارہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا، افغانستان میں امن وامان و ترقی کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں۔

وزیراعظم عمران نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بمباری کےلیے امریکا کو اڈے دينے سے پاکستان دہشتگردی کا نشانہ بنے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ملکی معيشت کی بحالی چاہتے ہيں، اس لیے دوبارہ کسی جنگ کا حصہ نہيں بنيں گے۔ ہماری معیشت مزید مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔

امریکا کی جانب سے طالبان کو محفوظ پناہی گاہیں دینا احمقانہ الزام ہے جسے ہم مسترد ہیں۔ دنیا جانتی کے کہ پاکستان نے امريکا اور طالبان کو مذاکرات کی ميز پر لانے ميں اہم کردار ادا کيا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان پہلے اپنے مہاجرین کو واپس لے پھر پاکستان سے جواب طلبی کرے، جب افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ نیٹو فورسز تھیں تو اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیے تھے، اب اس نتیجے پر پہنچے کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں لیکن امریکا اور نیٹو فورسز کے پاس اب سودے بازی کی طاقت نہیں رہی کیونکہ اب طالبان کو سیاسی حل کے لیے مجبور کرنا مشکل ہے، وہ خود کو فاتح سمجھ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے کہ افغانستان کے سیاسی حل کے لیے دباؤ ڈالیں، افغانستان میں امن چاہتے ہیں اورکسی محاذ آرائی کاحصہ نہیں بننا چاہتے کیونکہ پاکستان نے افغان جنگ کا حصہ بن کر 70 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube