Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

سندھ نجی شعبے سے مہنگی کروناویکسین خریدرہا ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

SAMAA | - Posted: Apr 6, 2021 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Apr 6, 2021 | Last Updated: 1 year ago

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سندھ حکومت کی جانب سے نجی شعبے سے کرونا ویکسین کی خریداری پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ وفاقی وزیر اسد عمر کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ حکومت کمپنی کے بجائے مڈل مین سے ویکسین خرید رہی ہے، مہنگے داموں ویکسین خریدنے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے سندھ حکومت کی جانب سے نجی شعبے سے کرونا وائرس کی کین سائنو ویکسین کی خریداری پر تحفظات کا اظہار کردیا، اس حوالے سے وفاقی وزیر اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کو خط بھی لکھ دیا۔

خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سندھ نجی شعبے سے ویکسین مہنگے داموں خرید رہا ہے، کمپنی کے بجائے مڈل مین سے کرونا ویکسین کے ایک کروڑ انجیکشن خریدے جارہے ہیں، یہ خریداری وفاقی احکامات کیخلاف اور غیر قانونی ہے۔

ویڈیو: پاکستان میں منظور شدہ چاروں کوویڈ-19 ویکسینز کی تازہ صورتحال کیا ہے؟

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ نجی شعبے سے سندھ حکومت کین سائنو ویکسین خرید رہی ہے، جس سے خزانے کو اربوں روپے نقصان ہوگا۔

واضح رہے کہ ڈریپ (ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان) نے سائنو فارم، کین سائنو بایو، ایسٹرا زینیکا اور اسپٹنک 5 کے استعمال کی اجازت دے دی ہے، پاکستان میں سائنو فارم اور کین سائنو  کے علاوہ اسپٹنک 5 کی ویکسین کا بھی استعمال شروع ہوچکا ہے جبکہ کوویکس کے ذریعے ملنے والی ایسٹرا زینیکا تاحال پاکستان نہیں پہنچی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube