Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

نیب قانون میں ترامیم فوج نے پیش کی تھیں،خرم دستگیر

SAMAA | - Posted: Dec 22, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Dec 22, 2020 | Last Updated: 1 year ago

مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر دفاع خرم دستگیر نے تصدیق کی ہے کہ نیب قانون میں ترامیم کی تجویز عسکری قیادت نے پیش کی تھی مگر عمران خان نے انکار کردیا۔

سماء ٹی وی کے میزبان علی حیدر سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ جب فیٹف کی قانون سازی کا معاملہ آیا تو عمران خان نے اپنی ذمہ داری آؤٹ سورس کرتے ہوئے عسکری قیادت سے کہا کہ وہ اپوزیشن سے بات کریں۔ وزیراعظم عمران خان بالاکوٹ، کشمیر اور گلگت بلتستان کے معاملے پر بھی یہی روش اپنا چکے ہیں۔

میزبان علی حیدر نے نیب قانون میں ترامیم سے متعلق پوچھا تو خرم دستگیر نے جواب دیا کہ موسم سرما میں عسکری قیادت نے ایک میٹنگ بلائی تھی۔ اس اجلاس میں نیب ترامیم کی تجویز حکومت کی طرف سے آئی۔ یہ اپوزیشن کا مطالبہ نہیں تھا۔ فاروق ایچ نائک نے ایک سادہ کاغذ پر خلاصہ لکھ کر ان کے حوالے کردیا۔ ایسا کوئی قانون حکومت نے اسمبلی میں پیش کیا نہ ہم نے ترامیم تجویز کیں۔

اینکر نے سوال کیا کہ مفتاح اسماعیل نے اے آر وائی نیوز پر وسیم بادامی کے ٹاک شو میں کہا تھا کہ یہ ترامیم ان کو فوج کی جانب سے دی گئی تھی۔ خرم دستگیر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تجویز مقتدرہ حلقوں نے پیش کی تھی۔‘

علی حیدر نے ان سے پوچھا کہ فوج نے یہ تجویز کیوں پیش کی۔ اس پر خرم دستگیر نے کہا کہ ’میں اس میٹنگ میں موجود نہیں تھا، اس لیے میرے پاس یہ جواز نہیں کہ انہوں نے یہ تجویز کیوں پیش کی۔‘

اینکر کے ایک اور سوال پر خرم دستگیر نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ’نیب کا بل ہمارا مطالبہ نہیں تھا۔ ایک میٹنگ کے لیے دعوت دی گئی، اس میں بحث شروع ہوئی تو یہ بھی ٹیبل پر رکھا گیا کہ نیب کے اوپر بھی ڈسکشن ہوگی۔‘

خرم دستگیر نے مزید کہا کہ ’عمران خان اس میٹنگ میں نہیں تھے۔ جب ان کو رپورٹ کیا گیا انہوں نے کہا ہم نے نیب پر بات نہیں کرنی۔ اگلے دن کہا گیا کہ نیب پر بات نہیں ہوگی، اس کے بعد معاملہ رفع دفع کیا گیا۔‘

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube