Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

حزب اختلاف کواین آراو کی پیشکش نہیں کرینگے، شبلی فراز

SAMAA | - Posted: Dec 21, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Dec 21, 2020 | Last Updated: 1 year ago

وزیر اطلاعات و نشریات سید شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت حزب اختلاف کو کسی بھی این آر او کی پیشکش ہرگز نہیں کرے گی، اپنے رہنماؤں کی بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ترامیم تجویز کی گئیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایک کروڑ ملازمتیں اور 50 لاکھ گھر فراہم کرنے سمیت اپنے تمام وعدے پورے کرے گی۔

وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف نے ماضی میں اپنے رہنماؤں کی بدعنوانی پر پردہ ڈالنے کیلئے قومی احتساب آرڈیننس میں 38 ترامیم میں سے 34 کی تجویز دی ہے، حکومت کو ان ترامیم کی تجویز دیکر ایسے وقت میں دباؤ میں ڈال دیا گیا جب پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے قانون سازی میں حزب اختلاف کا تعاون چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف نے تجویز دی کہ قومی احتساب بیورو کو صرف گزشتہ 5 سال کے کیس لینے چاہئیں اور ایک ارب روپے کی بدعنوانی،  قرضے معاف کرانے اور منی لانڈرنگ کے کیس نہیں لینے چاہئیں۔

سید شبلی فراز نے کہا کہ حزب اختلاف نے بے نامی داروں کی تعریف کرنے کی تجویز بھی دی، جنہیں بیوی اور بچوں کے نام پر بدعنوانی کرنے کی کھلی آزادی ہے اور مجرموں کو ان کے مقدمات کا حتمی فیصلہ آنے تک انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے جبکہ نااہلی کی مدت صرف 5 سال کیلئے ہونی چاہئے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف بین الاقوامی امداد کے باہمی قانون کا ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، اگر یہ ترامیم منظور کرلی گئیں تو نیب عملی طور پر غیرفعال ہو جائے گا اور اپوزیشن کے بدعنوان رہنماؤں کو این آر او مل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف نے ملک کی سلامتی کے ذمہ دار اداروں میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنی 5 سالہ مدت میں ایک کروڑ ملازمتیں اور 50 لاکھ گھر فراہم کرنے سمیت اپنے تمام وعدے پورے کرے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube