Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

ہائیکورٹ کے پی ٹی اے اور ایف آئی اے کے دائرہ اختیارپرسوالات

SAMAA | - Posted: Dec 5, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Dec 5, 2020 | Last Updated: 1 year ago

اسلام آباد ہائیکورٹ نےپاکستان ٹیلی کمیونیکشن کے رُولز اورفیس بک جھگڑوں میں ایف آئی اے کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھا دیئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا رولز کو اظہار رائے پر پابندی قرار دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا رولز اور دائرہ اختیار پر پی ٹی اے اور ایف آئی اے بھی تذبذب کا شکار ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی اے پر برہمی کا اظہارکیا ہے اور پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا رولز آرٹیکل 19 سے متصادم ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے سے سوال کیا ہے کہ فیس بک جھگڑوں پر آپ کارروائی کیوں کرتے ہیں ؟ پی ٹی اے سے پوچھا گیا ہے کہ آپ کو آئین میں دیئے گئے اظہار رائے کے بنیادی حق سے متصادم رُولز بنانے کا مشورہ کون دیتا ہےاوراس کومنظور کرنے والی اتھارٹی کون سی ہے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسسٹس  اطہر من اللہ نے دو مختلف سماعتوں کے دوران اہم نوعیت کے سوالات اٹھائے اور سخت ریمارکس دیئے کہ پی ٹی اے رُولزمیں تنقید پرپابندیاں لگانا احتساب کے خلاف ہے،جب عدالتی فیصلوں پرتنقید ہو سکتی ہے تو کسی اور کو بھی تنقید سے گھبرانا نہیں چاہئیے۔

عدالت نے کیس میں پاکستان بار کونسل کے نمائندوں کو معاون مقرر کیا تو انہوں نے بھی پی ٹی اے رُولز کو آرٹیکل انیس کیخلاف قرار دیا۔عدالت نے پی ٹی اے کورُولزپرتمام اعتراضات دورکرکےرپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کررکھی ہے۔

 واضح رہے کہ فیس بک گروپ میں دو خواتین کے درمیان جھگڑے کے کیس پر کارروائی کرنے والے وفاقی تحقیاتی ادارے سے عدالت نے پوچھ رکھا ہے کہ آخر وہ کس قانون کے تحت ایسا کرتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ فیس بک لڑائیوں پر کارروائیاں شروع ہوئیں تو پھر ایف آئی اے کے جو کرنے والے کام ہیں وہ تو سب دھرے رہ جائیں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube