Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

مصطفیٰ کمال کونااہل قراردينےکی درخواست، اليکشن کميشن کاتحريری جواب جمع

SAMAA | - Posted: Oct 14, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 14, 2020 | Last Updated: 2 years ago

سندھ ہائیکورٹ میں چيئرمين پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال کو نااہل قراردينےسےمتعلق درخواست پر اليکشن کميشن نے تحريری جواب جمع کرواديا ہے۔

بدھ کوسندھ ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفیٰ کمال نے2002اور2005کےانتخابات میں حصہ لیا ہے،اگران کاحلف نامہ جھوٹاثابت ہوتاہےتوخطرناک نتائج مرتب ہوسکتےہیں اور 1860پینل کوڈ کےتحت ضابطے کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کےجواب میں یہ بھی درج ہے کہ الیکشن کمیشن عدالتی احکامات پرعمل درآمد کرنے کا پابند ہے،عدالت جوحکم جاری کرے گی اس پر عمل درآمد کریں گے۔الیکشن کمیشن کے جواب جمع کروائے جانے کےبعدعدالت نے 18 نومبر کو دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں ایم کیوایم کے سابق رہنما سلمان مجاہدبلوچ نے درخواست دی تھی کہ مصطفی کمال 1994 سے 2002 تک کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں ملازمت کرتے تھے، مستقل غیرحاضری اور مس کنڈکٹ پر مصطفی کمال کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا،قانون کے مطابق ملازمت سےبرطرف شخص کسی بھی عوامی عہدے یا الیکشن لڑنے کے لئے نا اہل ہوتا ہے۔

سلمان مجاہد بلوچ نےموقف اختیار کیا کہ اس کےباوجود مصطفی کمال نے پی ایس 117 اور سٹی ناظم کے لئے الیکشن لڑا اوران  کا الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا کاغذات نامزدگی بدنیتی اور جھوٹ پر مبنی تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ مصطفی کمال آئین کے آرٹیکل 62,63 پر پورا نہیں اترتے اور وہ صادق اورامین نہیں رہے،اسمبلی کی نشست پر کامیابی کو کالعدم قرار دی جائے اور ان سے تنخواہیں اور مراعات واپس لی جائیں۔ درخواست گزار سلمان مجاہد بلوچ نے یہ بھی کہا ہے کہ مصطفی کمال کو پی ایس پی چئیرمین کی حیثیت سے بھی کام سے روکا جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube