Saturday, January 29, 2022  | 25 Jamadilakhir, 1443

سُپریم کورٹ کے 2ججزنے چیف جسٹس کواہم نوٹ بھیج دیا

SAMAA | - Posted: Aug 24, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Aug 24, 2020 | Last Updated: 1 year ago
Supreme Court of Pakistan

فوٹو: آن لائن

سُپریم کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چھٹے نمبر پر موجود جسٹس سردار طارق مسعود نے قتل کے ایک مُقدمہ میں سزا کے خلاف اپیل پر حُکمنامہ لِکھواتے ہوئے آرڈر کا پیراگراف نمبر 4 چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مُطابق قتل کے جُرم میں عُمر قید کی سزا کاٹنے والے سرفراز نے اپنی سزا کے خلاف سُپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سردار طارق مسعود پر مُشتمل دو رُکنی بینچ نے اپیل کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت دو رُکنی بینچ کو معلوم ہوا کہ اپیل کرنے والے قیدی سرفراز کے پاس وکیل کرنے کے پیسے نہیں تھے جِس وجہ سے اُسکی نمائندگی کے لیے کمرہِ عدالت میں کوئی موجود نہ تھا۔ عدالت نے کورٹ روم نمبر دو میں موجود عائشہ تسنیم کو حکومتی خرچ پر پیٹشنر کا وکیل مُقرر کرتے ہوئے عدالتی عملہ کو ریکارڈ خاتون وکیل کو دینے کا حُکم دیا جبکہ مدعی فریق کو بھی اگلی سماعت پر پیش ہونے کا نوٹس جاری کر دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حُکمنامہ تحریر کرتے ہوئے لِکھا کہ فوجداری مُقدمات میں سزا کی معافی کے خلاف اپیلوں اور جیل پیٹیشنز کا حق دس سال سزا کاٹنے کے بعد دیا جاتا ہے اور جب تک یہ اپیلیں سماعت کے لیے مُقرر کی جاتی ہیں مزید کئی سال گُزر جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر درخواست گزار کو ریلیف دینا ایک فریب کی مانند ہے کیونکہ وہ تب تک تقریباً عُمر قید کاٹ چُکا ہوتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا تفصیلی فیصلہ ستمبرمیں مُتوقع

بینچ کے سربراہ مزید لکھتے ہیں کہ میں اپنے دفتر کو ہدایت دیتا ہوں کے وہ اِس پیراگراف کو ایک نوٹ کی صورت معزز چیف جسٹس گُلزار احمد کے علم میں لائیں تاکہ وہ غور کریں کہ ایسی اپیلیں سُپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ کے سامنے مُقرر کی جائیں جو ہائیکورٹس کے دو رُکنی بینچ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف جسٹس کے نام نوٹ میں یہ بھی تجویز کیا کہ ایسی اپیلیوں کی سماعت مُقرر کرتے وقت مدعی کو بھی نوٹس کیا جائے تاکہ دونوں فریقین کو سُنا جاسکے اور اگر مدعی فریق عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہو تو مدعی کے لیے بھی اور اگر درخواست گزار بھی اپنے لیے وکیل کرنے سے قاصر ہو تو دونوں فریقین کے لیے ایک خودکار نظام کے تحت سرکار کے خرچ پر وکیل مُقرر کردیے جائیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ اس تجویز پر عمل کرنے سے بڑے پیمانے پر زیر التوا پیٹشنز میں نُمایاں کمی ہوگی۔ بینچ نے اِس پیراگراف کو نوٹ کی صورت غور کرنے اور اِس پر مُناسب حُکم جاری کرنے کے لیے معزز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گُلزار احمد کو بھجوانے کی ہدایت کردی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube