Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

تحریک انصاف کا سندھ حکومت کے خلاف نیب میں جانے کا اعلان

SAMAA | - Posted: Jul 12, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 12, 2020 | Last Updated: 2 years ago

پاکستان تحریک انصاف سندھ کی قیادت نے حکومت سندھ کے خلاف نیب میں جانے کا اعلان کردیا۔ حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ سندھ میں ہر کام پر 52 فیصد رشوت لی جاتی ہے۔

کراچی میں شارع فیصل پر قائم انصاف ہاؤس میں 12 جولائی اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب میں پاکستان تحریک انصاف سندھ کی قیادت نے کہا کہ میں سندھ حکومت کے خلاف ایک شکایت داخل کروں گا، کہ انہوں نے سندھ کو برباد کیا۔ انہیں نے صوبے بھر میں پیسے لوٹے ہیں، اور اب میں دیکھوں گا کہ نیب سندھ ان کے خلاف کیا ایکشن لے گی۔ ہم بطور تحریک انصاف اس انکوائری کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہمیں حلیم عادل شیخ کے نام پر انکوائری کی خبروں سے کوئی پریشانی نہیں۔ ہم اپنے آپ جو جوڈیشل انکوائری کیلئے بھی پیش کر رہے ہیں، تاہم میں یہ بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہم میڈیا ٹرائل کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا سے ایسے رویے کی توقع کرتے ہیں کہ جب کسی کے خلاف کوئی شکایت ہو تو اس پر محدود کوریج دے۔ جیسے حلیم عادل شیخ کے معاملے میں ہوا۔ ملک میں کرپشن کرنے والے نہیں بچیں گے، اس موقع پر انہوں نے اجمل وزیر کے معاملے پر نام لیے بغیر کہا کہ پارٹی میں کرپشن کرنے والا نہیں رہے گا۔

پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کہتے ہیں سندھ حکومت کے خلاف نیب میں اپیل کرنے جا رہے ہیں، صوبائی حکومت کی بدعنوانی بے نقاب کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی وہ جماعت نہیں جو کہے مجھے کیوں نکالا، پی ٹی آئی لیڈر کا اعلان ہے کرپشن کرنے والا پارٹی میں نہیں رہے گا۔ ہم میں سے کوئی مسٹر 10 پرسنٹ نہیں ہے، سندھ حکومت کو بے نقاب کرنے پر یہ حلیم عادل کے دشمن بن گئے۔

اس موقع پر حلیم عادل شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ہر کام پر 52 فیصد رشوت لی جاتی ہے، آنٹی کرپشن نے انٹی کرپشن کو میرے پیچھے لگا دیا۔ یہ نیب میں ہوں تو چھڑی لے کر چلتے ہیں، اسمبلی جاگنگ کرتے آتے ہیں۔ کوئی بھی تحقیقاتی ادارہ بلائےتو جانا چاہیے، نیب کی پیشی پرہم یہ نہیں کہتے کہ بیمار ہیں۔

حلیم عادل نے مزید کہا کہ میرے پاس زمینوں کی الاٹمنٹ کی تمام دستاویزات موجود ہیں، انٹی کرپشن میں 14 مقدمے درج ہیں، کارروائی نہیں کی جاتی، میرے نام صرف 4 ایکڑزمین ہے، 1991 میں 4 ایکڑ زمین پر قرض لیا اور پولٹری فارم لگایا، کراچی کے مضافات میں ہزاروں ایکڑ زمین لیز پر دی جاتی تھی، اینٹی کرپشن کی ایف آئی آرنہیں بنتی ورنہ ہوچکی ہوتی، مجھے سلطانہ ڈاکو بنا دیا گیا، انٹی کرپشن نے میرے خلاف جھوٹ کا پلندہ بنا دیا، نیب کے کل کے نوٹس میں منی لانڈرنگ کا ذکر نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube