Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  16

پاکستان اسٹیل ملزملازمین کونکالنےکاکیس سماعت کےلیےمقرر،سپریم کورٹ

SAMAA | - Posted: Jun 5, 2020 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Jun 5, 2020 | Last Updated: 2 years ago

پاکستان اسٹیل ملزکے ملازمین کو نکالنے کے معاملے پر قانون جنگ شروع ہوگئی ہے۔سپریم کورٹ نے اہم کیس کوسماعت کیلئے مقرر کردیا ہے۔

سپریم کورٹ کےچیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 9 جون کوکیس کی سماعت کرے گا۔بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل ہیں۔

رجسٹرار آفس نے اسٹیل مل سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔حکومت کی قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے اسٹیل مل کے نو ہزار سے زائد ملازمین کو صرف ایک ماہ کے نوٹس پر ملازمتوں سے فارغ کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

جمعہ کو سپریم کورٹ میں انتظامیہ کی جانب سے جمع رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ اسٹيل مل ميں صرف ايک ہزار ملازمين کی گنجائش ہے،جن کو چھوڑ کر7 ہزار 8 سو 84 ملازمين کو فارغ کررہے ہيں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ اور سابق ملازمین کو 40 ارب کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی،وفاقی حکومت کو ملازمین کوبرطرفی پر تمام واجبات ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ 15 اپریل کو ہیومن ریسورس بورڈ میٹنگ میں ہوا۔2015 سے بند مل کے ملازمین کو 30 ارب روپے کی ادائیگیاں ہوچکی ہيں،وفاق بیل آؤٹ پیکجز اور تنخواہوں کی مد میں 92 ارب روپے ادا کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو18 ارب روپے کا پیکج دیا جائے گا۔کم و بیش 23 لاکھ روپے فی ملازم معاوضہ دیا جائے گا۔ پاکستان اسٹیل ملز پر اس وقت 585 ارب روپے کا قرضہ اور خسارہ ہے جس میں 300 ارب روپے کا خسارہ ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز اس وقت 35 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کررہا تھا۔90 کروڑ روپے ماہانہ سود کی مد میں دئیے جاتے ہیں۔ 90 کروڑ روپے کے دیگر اخراجات بھی ہیں جن میں ٹرانسپورٹ اور میڈیکل شامل ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس کی تنظیم نو کرکے نجکاری کی جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube