Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

نوازشریف کا نام سن کر کس کو تکلیف ہوتی ہے

SAMAA | - Posted: Mar 10, 2020 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Mar 10, 2020 | Last Updated: 2 years ago

مسلم لیگ ن کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اختلافات سامنے آگئے۔ خیبر پختونخوا سے سینیٹر پیر صابر شاہ نے اسٹیج پر صرف پنجاب کے لیڈرز کی موجودگی پر اعتراض اٹھا دیا جبکہ جاوید لطیف نے شکوہ کیا کہ اسٹیج پر بیٹھے چار پانچ لوگ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور کسی سے مشاورت نہیں کرتے۔

خیبرپختونخواہ سےنون لیگ کے سینیٹر پیر صابرشاہ نے کہا کہ آج اسٹیج دیکھ کر یہ ثابت ہوگیا کہ نون لیگ صرف پنجاب کی جماعت ہے۔ کسی دوسرے صوبے کا سینیٹر یا ایم این اے اسٹیج پرموجود نہیں۔

رکن قومی اسمبلی شیخ اعجاز نے کہا کہ آپ ایسی بات نہ کریں، یہ موقع نہیں، جس کے جواب میں صابر شاہ نے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں مجھےروکنےوالے۔ مجھے لگتا ہے کہ جب بھی یہاں پر نوازشریف کی بات ہوتی ہے تو کچھ لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔

پنجاب ہی سے نون لیگ کے ایم این اے جاوید لطیف نے بھی صابر شاہ کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ پیر صاحب درست کہہ رہے ہیں۔ اسٹیج پر بیٹھے چار پانچ لوگ خود کو عقل کل سمجھ کر کسی اور سے مشاورت نہیں کرتے۔

جاوید لطیف نے کہا آپ تحریک کی بات کرتے ہیں تو یہ بتائیں آپ کی تنظیم کہاں ہے۔ تنظیم سازی توہوئی نہیں۔

اس کے بعد جاوید عباسی نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ بلاول بھٹو روزانہ نون لیگ پر تنقید کرتےہیں۔ ہم نے کب جواب دینا ہے۔

سوالوں کا جواب دینے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف سامنے آئےاور کہا کہ پیر صاحب نے غلط بات کی ہے۔ نوازشریف کی پارٹی ہے۔ اس لیےان کے ذکر سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ پنجاب کی بات کرتے ہیں تو بتائیں کہ باقی صوبوں میں پارٹی کی کارکردگی کیا ہے۔

بلاول بھٹو کی تنقید پر خواجہ آصف نے کہا کہ یہ نہیں ہونی چاہیے لیکن اس لیےاس کا جواب نہیں دے رہے تاکہ اپوزیشن تقسیم نہ ہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube