Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

عورت مارچ کیخلاف درخواست کےقابل سماعت ہونےپرفیصلہ محفوظ

SAMAA | - Posted: Mar 6, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 6, 2020 | Last Updated: 2 years ago
فوٹو: اے ایف پی

عورت مارچ رکوانے کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعرات کے روز دائر درخواست کی سماعت آج جمعہ 6 مارچ کو ہوئی۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز میں درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ قانون کے مطابق مارچ پر پابندیاں عائد کرے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ میں مارچ میں لگنے والے 3 نعرے اس عدالت کے سامنے رکھتا ہوں۔ جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر 8 مارچ کو کچھ خلاف قانون ہوتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، درخواست گزار قبل از وقت اس عدالت سے ریلیف مانگ رہے ہیں، ہمارے معاشرے میں کئی دیگر اسلامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے، عدالت امید کرتی ہے کہ درخواست گزاران تمام اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے بھی عدالت سے رجوع کرینگے۔

اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عورتوں کے نعرے تو وہی ہیں جو اسلام نے ان کو حقوق دئیے وہ دییے جائیں، ان کے نعروں کی کیا ہم اپنے طور پر تشریح کرسکتے ہیں؟ سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ خاتون تھیں، خواتین نے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اسلام میں دئیے گئے اپنے حقوق مانگ رہی ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ جب پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنی بات واضع کردی تو ہم کیسے مختلف تشریح کرسکتے ہیں، آج پورے میڈیا میں ان کی پریس کانفرنس شائع ہوئی ہے۔ انہوں نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کس نے بچیوں کو زندہ دفن کرنے کے رواج کو ختم کرایا؟۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بچیوں کو زندہ دفن کرنا ختم کرایا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں بچیوں کے پیدا ہونے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، یہ بات سوچنی ہوگی۔ ضروری ہے کہ آپ اس عورت مارچ کو مثبت انداز میں دیکھیں، آپ یہ بتائیں کہ ہم کتنی خواتین کو وراثتی حقوق دے رہے ہیں۔ عدالت نے بعد ازاں درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube