Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

انٹرنیٹ صارفين کی مددکيلئےقواعدوضوابط متعارف

SAMAA | - Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 2 years ago

حکومت نے پہلی بار آن لائن سہوليات سے فائدہ اٹھانے والے صارفين کی مدد کيلئے قواعد و ضوابط متعارف کرادیئے۔ نئی اتھارٹی کے قيام کا بھی فيصلہ کرلیا گیا ہے۔سوشل میڈیا کمپنیوں کيلئے 3 ماہ میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ صارفين کی شکايت پر بھاری جرمانے بھی ہوں گے۔

وزارتِ آئی ٹی نے سوشل ميڈيا صارفین کے تحفظ کيلئے رولز 2020 تيار کرليے ہیں۔ آن لائن جرائم روکنے کيلئے نئی کوآرڈینیشن اتھارٹی قائم کرنے کا بھی فيصلہ کیا گیا ہے۔ اتھارٹی تمام اسٹيک ہولڈرز، وفاقی و صوبائی حکومتوں سے رابطے ميں رہے گی۔

اس کے علاوہ يوٹیوب، فیس بک ، ٹویٹر، ٹک ٹاک سمیت تمام کمپنياں 3 ماہ میں اتھارٹی سے رجسٹریشن اور پاکستان ميں اپنا آفس قائم کرنے کی پابند ہوں گی۔ پاکستانی شہريوں کے ڈيٹا کے تحفظ کيلئے ايک سال ميں ڈیٹا سرور بھی بنانا ہوگا۔

نئے قوائد کے مطابق کسی بھی صارف کی شکايت پر سوشل میڈیا کمپنیز کو6 گھنٹے ميں متنازع يا ممنوعہ مواد بلاک کرنا ہوگا، تعاون نہ کرنے پر 50 کروڑ روپے تک جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ کمپنيوں کوجرمانے کيخلاف اتھارٹی يا ہائيکورٹ ميں اپيل کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube