Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل مسترد

SAMAA | - Posted: Feb 3, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 3, 2020 | Last Updated: 2 years ago

سینیٹ کے ارکان نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق تحاریک مسترد کردیں۔ سولہ ارکان نے تنخواہوں میں اضافے کا بل ایوان میں پیش کرنے کی حمایت جبکہ 29 ارکان نے مخالفت کی۔

سینیٹر نصیب اللہ بازئی و دیگر متعدد سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل تیار کیا تھا۔ انہوں نے بل کیلئے دو جواز پیش کیے۔

پہلا یہ کہ ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ موجودہ تنخواہ میں ارکان پارلیمنٹ کا گزارہ نہیں ہوتا۔ دوسری تاویل کے مطابق پاکستان میں تمام اداروں اور اتھارٹیز کے سربراہ کی تنخواہ سات سے 8 لاکھ روپے ہے لیکن چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ سے زیادہ نہیں۔ یہ امتیازی سلوک ہے۔ لہٰذا چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت ارکان پارلیمنٹ تنخواہ اور مراعات میں اضافہ کیا جائے۔

اس معاملے پر ایوان کے اندر اور باہر شدید تنقید ہوئی اور اضافے کے مخالف ارکان نے بل نہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا جس پر ایوان میں بل سے قبل تحاریک پیش کی گئیں تاکہ سینیٹرز بل پیش کرنے یا نہ کرنے سے متعلق اپنی رائے دے سکیں۔

پیر کو اس سلسلے میں تحاریک پیش ہوئیں، جن کے حق میں 16 اور مخالفت میں 29 ووٹ پڑے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے بیشتر سینیٹرز بل کی مخالفت کی۔

مسلم لیگ نواز کے دلاور خان اور یعقوب خان ناصر نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور ایم کیو ایم کی جانب سے بھی بل پیش کرنے کی حمایت کی گئی۔

اس موقع پر سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے رہنما مشاہداللہ خان نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ جس کا داؤ لگ جائے وہ تنخواہ بڑھالے اور جس کا داؤ نہ لگے وہ روتا پھرے۔ تنخواہیں بڑھانے والے امیر لوگ ہی ہوتے ہیں۔ ملک میں تنخواہیں بڑھانے کے حوالے سے کوئی اصول نہیں بنایا گیا۔ صدر مملکت کی تنخواہ بڑھ کرتقریباً 9 لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ وزیراعظم صاحب کہتے ہیں ان کا اس تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا۔ اگر وزیراعظم کا گزارا نہیں ہوتا تو ان کی تنخواہ بھی بڑھا دیں۔

سینیٹر مشاہداللہ نے مزید کہا کہ پرائیوٹ سیکٹر میں ملازمین کو ایک سیکنڈ میں نوکریوں سے نکالا جاتا ہے۔ اس وقت 80 لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ بے روزگاری کی وجہ سے اسٹریٹ کرائمز اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کے گھر گرائے جارہے ہیں اور ان کو متبادل جگہ نہیں دی جاتی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube