Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  15

احسن اقبال 13 روزہ جسمانی ريمانڈ پرنيب کے حوالے

SAMAA | - Posted: Dec 24, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 24, 2019 | Last Updated: 2 years ago

نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ گھپلوں کے کیس میں احتساب عدالت نے گرفتار ليگی رہنما احسن اقبال کو13 روزہ جسمانی ريمانڈ پر نيب کے حوالے کرديا۔ سابق وزير داخلہ نے پہلی ہی پيشی پر مرضی کا علاج کرانے کیلئےدرخواست دے دی۔ انھوں نے اپنی گرفتاری کو سياسی انتقام قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اُنہیں مشرف کو سزا کی حمايت پر گرفتار کیا گیا ہے تو سزا قبول ہے۔

منگل کو نيب نے اسپورٹس سٹی کرپشن کيس ميں گرفتار ليگی رہنما کو جج محمد بشير کے روبرو پيش کرديا۔ دوران سماعت نيب پراسيکيوٹر نے گرفتاری کی تحريری وجوہات پڑھ کرسنائیں اور بتایا کہ احسن اقبال نے بطور وزیرمنصوبہ بندی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا،نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے کی لاگت ميں اضافہ کيا گيا، ساڑھے 3 کروڑ روپے کے منصوبے کی لاگت 10 کروڑ روپے تک پہنچ گئی اور تفتيش کيلئے14 دن کا ريمانڈ درکار ہے۔

وکيل صفائی طارق جہانگیری نے مخالفت کی اور کہا کہ نیب کے پاس کوئی دستاویز ہے تو90 روزکا ریمانڈ دے دیں۔ مسلم لیگی  رہنما نے روسٹر پر آکر بتايا کہ منصوبے کی متعلقہ اداروں سے منظوری لی، نیب 20 ماہ سے تفتیش کررہا ہے، کیا کوئی شواہد ملے؟

احسن اقبال نے پہلی ہی پيشی پرمرضی کے علاج کی استدعا بھی کردی اور کہا کہ سروسزاسپتال لاہور میں چیک اپ کرانا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے

ميڈيا سے گفتگو ميں اپنی گرفتاری  پرکئی سوالات بھی اٹھا ديئے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اگر مجھے پرویز مشرف کی سزا کی حمايت پر گرفتار کیا گیا ہے تو مجھے یہ سزا قبول ہے،اگر اس لیے گرفتارکیا گیا ہےکہ میں عمران خان کی حکومت کے خلاف بولنے سے باز آ جاؤں گا تو یہ سزا قبول نہیں،ان اوچھے ہتھکنڈوں سے یہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعداحسن اقبال کو6جنوری تک 13 روز جسمانی ريمانڈ پرنيب کے حوالے کرديا۔ نیب راولپنڈی نے گزشتہ روز لیگی رہنما کو اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ گھپلوں کے کیس ميں طلبی کے موقع پرگرفتارکيا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube