Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

پاکستان افغانستان میں ہماری بہت مدد کررہا ہے، ٹرمپ کا اعتراف

SAMAA | - Posted: Jul 22, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 22, 2019 | Last Updated: 3 years ago

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں ہماری بہت مدد کررہا ہے۔ عمران خان سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرسکا تو خوشی ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ون آن ون ملاقات ختم ہوگئی، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ پاکستان، افغانستان میں ہماری بہت مدد کررہا ہے۔

انہوں نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرسکا تو خوشی ہوگی۔

انہوں نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرسکا تو خوشی ہوگی، بھارتی وزیراعظم نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مجھ سے کہا ہے، امریکا مسئلہ کشمیر پاک بھارت تعلقات بہتر کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

مزید جانیے : امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی کوئی درخواست نہیں کی، بھارت

ڈونلڈ ٹرمپ بولے کہ میری اور عمران خان کی نئی قیادت آئی ہے، افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں، پاکستان ماضی میں ہماری عزت نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان میں میرے بہت سے دوست ہیں، وہ بہت سمجھدار اور مضبوط لوگ ہیں۔

وہ بولے کہ اگر ہم افغانستان میں جنگ لڑنا چاہیں تو ہم یہ لڑائی ایم ہفتے میں جیت جائیں گے، میں نہیں چاہتا کہ 10 لاکھ لوگ مر جائیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ ہوئی تو افغانستان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا اور یہ سب صرف 10 دنوں میں ختم ہوجائے گا۔

امریکی صدر بولے کہ میرا خیال ہے کہ پاکستان خود سے ہماری مدد کررہا ہے، ہم پولیس کی طرح ہیں، ہم جنگ نہیں لڑ رہے۔

اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ امن کيلئے اپنی بھرپور کوشش کی، امن کیلئے پاکستان نے ہر ممکن قدم اٹھايا، امریکا ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان اور بھارت کو قریب لاسکتا ہے، پاک بھارت مذاکرات ہوئے تو ٹرمپ کو لاکھوں لوگوں کی دعائيں مليں گی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امید ہے پاکستان سے تجارتی تعلقات بہتر ہوں گے، امريکا اور پاکستان کے درميان تجارت 10 گنا بڑھانی چاہئے، پاکستانی معيشت ميں بہتری کيلئے کردار ادا کرنا چاہتے ہيں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارا کردار طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، افغانستان ميں امن کے حصول کے قريب ترين پہنچ گئے ہيں، افغانستان ميں بے امنی سے سب سے زيادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے، افغان مسئلے کے حل کیلئے انتہائی اہم دور چل رہا ہے، افغانستان کے سوا پاکستان واحد ملک ہے جو وہاں امن چاہتا ہے۔

وہ بولے کہ ہمارا کردار طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، افغان جنگ سے لاکھوں لوگ متاثر ہوچکے، افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔

اس سے قبل عمران خان اپنے پہلے دورۂ امریکا میں وائٹ ہاؤس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دروازے پر پاکستانی وزیراعظم کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ اور مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا، اس موقع پر شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے۔

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات شروع ہوگئی، وائٹ ہاؤس پہنچنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم کا خود دروازے پر آکر استقبال کیا، دونوں رہنماؤں میں ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوں گی۔

عمران خان نے وائٹ ہاؤس پہنچے تو انہوں نے سیاہ قمیض شلوار زیب تن کر رکھی تھی، ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی تھے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر 3 روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچے، ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح پر وفد بھی موجود ہے۔

پاکستانی وفد کی اسپیکر نینسی پلوسی اور امریکی فوجی قیادت کے ساتھ بھی اہم بیٹھک لگے گی، ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم سمیت پاکستانی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے۔

مزید جانیے : دہائیوں بعد پاک امریکا اسٹریٹجک تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، امریکی سینیٹر کی عمران خان سے گفتگو

وائٹ ہاؤس میں ہونیوالی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے فروغ پر بات ہوگی، دو بڑے رہنماؤں کے درمیان ہونیوالی ملاقات میں عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر شکیل آفریدی سے متعلق بھی بات چیت کا امکان ہے۔

 آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید بھی وفد میں شامل ہیں، آرمی چیف پینٹاگون کے دورے کے موقع پر امریکی ہم منصب اور قائم مقام امریکی وزیر دفاع سے ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان آج رات امریکی تھنک ٹینک سے بھی خطاب کریں گے۔

اب سے کچھ دیر قبل وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے سربراہ سینیٹر لنزے گراہم نے ملاقات کی، ان کا کہنا ہے کہ دہائیوں بعد پاک امریکا اسٹریٹجک تعلقت بہتر ہوسکتے ہیں، فری ٹریڈ معاہدے سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : وزيراعظم عمران خان اور وفدکےاعزازمیں وائٹ ہاوس میں ظہرانہ بھی دیاجائیگا

امریکی سینیٹر اور سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے سربراہ لنزے گراہم نے پاکستان ہاؤس واشنگٹن میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، وہ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاک امریکا دو طرفہ تعلقات کی بھرپور حمایت کرنے والے ری پبلکن سیاستدانوں میں سے ایک ہیں۔

ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمو قریشی، سیکریٹری خارجہ محمد سہیل محمود اور امریکا میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید بھی موجود تھے۔

 
WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube