Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

کلبھوشن کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ سے متعلق بھارت ثبوت پیش نہیں کرسکا، پاکستانی وکیل

SAMAA | - Posted: Feb 19, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 19, 2019 | Last Updated: 3 years ago

بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے دلائل دیے کہ کلبھوشن کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ سے متعلق بھارت اب تک ثبوت پیش نہیں کرسکا۔

دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پاکستان نے ایڈہاک جج تبدیل کرنے کی استدعا کی جس پر پاکستان کو ایڈہاک جج کے بغیر دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ پاکستانی ایڈہاک جج جسٹس (ر) تصدق جیلانی ناسازی طبیعت کے باعث سماعت میں شریک نہیں ہوئے۔

صدر عالمی عدالت نے جسٹس تصدق جیلانی کے حوالے سے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جسٹس تصدق جیلانی سے متعلق سوال کا جواب مناسب وقت میں دیا جائے گا۔

کلبھوشن کیس، بھارتی دلائل پر پاکستان آج شواہد پیش کریگا

عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے دلائل میں کہا کہ کلبھوشن پاکستان میں دہشت گردی کےلیے ایران کے راستے پاکستان داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا، کلبھوشن اور اس کے خاندان کو فوجی عدالت کے فیصلے کےخلاف اپیل کا ہمیشہ حق دیا گیا۔

پاکستانی وکیل نے دلائل دیے کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت نے ہمیشہ پروپیگنڈا کیا، بھارت یہ بتانے میں بھی ناکام رہا کہ کلبھوشن اپنے پاسپورٹ پر کیسے سفر کرتا رہا۔ خاور قریشی نے کہا کہ ویانا کنونشن کا اطلاق کسی بھی جاسوس کے معاملے پر نہیں ہوتا۔

خاور قریشی نے دلائل دیے کہ بھارتی جاسوس نے مسلم شناخت والا اصل بھارتی پاسپورٹ رکھا ہوا تھا، بھارت اس مصدقہ پاسپورٹ سے متعلق سوالات کی وضاحت نہیں کرسکا۔

[caption id="attachment_1455717" align="alignnone" width="680"] تصویر: ایوا پیلیئر[/caption]

اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے لیے کام کر رہا تھا جس کو بلوچستان، گوادر اور کراچی میں دہشت گردی کرانے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا اور اعترافی بیان کے بعد سپلیمنٹری ایف آئی آر درج کی گئی۔ کمانڈر یادیو کی کارروائیاں انفرادی نہیں بھارت کی ریاستی دہشت گردی ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یادیو کی والدہ اور اہلیہ کو ملاقات کی اجازت دی، چیلنج کرتا ہوں کہ بھارت ایسی کوئی مثال سامنے لے آئے۔

انور منصور خان نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ پڑوسیوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی، پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کرائی اور جاسوس بھیجے، پاکستان کے خلاف بھارت کی منصوبہ بندی ڈھکی چھپی نہیں، کراچی میں دہشت گردی کے متعدد حملے کیے گئے، خودکش حملہ آوروں نے پاکستان میں سینکڑوں افراد کو نشانہ بنایا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری کو نشانہ بنانے کیلئے بھارت آپریشنز کر رہا ہے۔ پاکستان دہشتگردی سے متاثرہ ہونے کے باوجود دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے، بھارت کی مداخلت اور دہشت گردی کے باعث ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے۔ پاکستان کو اب تک دہشت گردی سے 130 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔

عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کی سماعت کل تک ملتوی

اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ مودی نے کہا کہ وہ پانی کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا، یہ بھارت کی دوہری پالیسی ہے کہ وہ خود کو دہشت گردی سے متاثرہ کہتا ہے، درحقیقت بھارت پڑوسی ممالک میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور بھارت کا کوئی بھی اقدام ہمیں اپنی مادروطن کے تحفظ سے نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول حملے میں 140 معصوم بچوں کو شہید کیا گیا، حملے میں بھارت براہ راست ملوث تھا۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے دلائل میں کہا کہ پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہے کہ ایڈہاک جج شریک نہیں لیکن ایڈہاک جج پاکستان کا حق ہے جو اسے ملنا چاہیئے۔ بتایا گیا ہے کہ تصدق جیلانی بیمار ہیں اور ہم جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون کے تحت ایڈہاک جج اگر نہ بیٹھ سکے تو تبدیل ہو سکتا ہے، عدالت اس معاملے کو دیکھے کہ بھارت کا مستقل جج موجود ہے ہمارے ایڈہاک جج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا کیس پیش کرنے کے لئے مکمل پرعزم اور تیار ہے۔ انور منصور نے کہا کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف سے قانون کے مطابق کارروائی کی توقع کرتا ہے۔

کلبھوشن کیس سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات 21 فروری تک جاری رہے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube