Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

وہ دن جب وقت ٹھہرگیا:سانحہ اے پی ایس میں شہید خولہ کے والد کی تلخ یادیں تازہ

SAMAA | - Posted: Dec 16, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 16, 2018 | Last Updated: 3 years ago

سولہ دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول کے بچوں پر ٹوٹنے والی قیامت کوئی نہیں بھلاسکتا۔ 50 سالہ ٹیچر الطاف حسین اس سانحے میں شہید بیٹی خولہ کو ابھی تک زندوں میں ہی شمار کرتے ہیں۔

الطاف حسین کا کہنا ہے کہ’’شہید کبھی مرتے نہیں‘‘۔ وہ خود بھی اس سانحے کے زندہ بچ جانے والوں میں سے ایک ہیں جن کے سینے پر لگنے والی تین گولیوں کے باعث جگر اور پھیپڑوں کو نقصان پہنچا تھا ۔ خیبرپختونخوا، ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے انگریزی کے استاد الطاف حسین نے حملے سے 4 ماہ قبل ہی آرمی پبلک اسکول میں ملازمت کا آغازکیا تھا۔

بیٹی کا اسکول میں داخلہ ہوا تو اسٹوڈنٹ کارڈ کیلئے خولہ کی تصویرپرنٹرسے نکلوانی تھی، اس لیے الطاف حسین کو کالج سیکشن جانا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’تصویر کھنچوا کر ہم پرنٹ آؤٹ کا انتطارکررہے تھے کہ فائرنگ ہونے لگی، سب چوکنے ہوگئے، میڈم سعدیہ خٹک نے کہا کہ خولہ کو میرے ساتھ جانے دیں، خدا کے بعد یہ میری ذمہ داری ہے‘‘۔

الطاف حسین سیڑھیوں کی جانب بھاگے تو مرکزی دروازے سے تین مسلح دہشتگردوں کو آتے دیکھا،انہیں روکنے کیلئےدوبارہ پہلی منزل پربھاگے تا کہ کچھ کرسکیں لیکن اتنے میں گراؤنڈ فلورپرکسی طالبعلم کو نہ پا کردہشتگرد بھی وہیں آگئے۔ الطاف حسین کو دیکھا تو فائرنگ کی لیکن وہ بھاگ کر ایک پلر کی آڑمیں چھپ گئے۔

الطاف حسین نے بتایا’’تمام اساتذہ اورطلبہ کلاس روم میں پناہ لے چکے تھے، میں برآمدے میں اکیلاتھا، دہشتگردوں کو اپنی داڑھی دکھائی ، کہا مجھ پر گولی مت چلانا لیکن وہ مسلسل فائرنگ کرتے رہے‘‘۔ الطاف حسین کو بچاؤ کے باوجود تین گولیاں لگ گئیں، وہ ایک کلاس روم میں داخل ہوئے اورہمت کرکے دروازے کے آگے الماری کھڑی کردی اور خود زمین پرلیٹ گئے۔ اندرآنے کی کوشش کرنے والے دہشگرددروازہ کھولنے میں ناکامی پر آگے بڑھ گئے۔

تلخ یادیں دہراتے ہوئے اس غمزدہ باپ نے بتایا کہ ’’7 سے 8 منٹ تک مسلسل فائرنگ ہوتی رہی، جب رکی تومیں کمرے سے باہرآیا مگرزخموں کے باعث گرگیا، خولہ کو آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ تقریباً 40 منٹ بعد آرمی کے جوان وہاں پہنچے اور مجھے بچایا۔ گراؤنڈ فلور پرموجود فوجیوں کو آواز دے کر پہلی منزل پر بلایا تو وہ مجھے دہشتگرد سمجھے اورہتھیار تان لیے لیکن زخمی بچوں نے بتایا کہ میں ان کا انگلش ٹیچرہوں جس پرفوجی جوانوں نے مجھے ریسکیوکیا۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیے جانے والے الطاف حسین کو دو روزبعد ہوش آنے پرجان سے زیادہ عزیز بیٹی اورمیڈم سعدیہ خٹک کی شہادت کا علم ہوا۔ روتے بلکتے باپ کو بیوی اور بیٹوں نے سنبھالا۔ زخم بھرنے اور ڈسچارج ہونے میں ڈھائی ماہ لگے۔ تقریبا 4 ماہ بعد باہمت باپ نے پھرسے اسکول جانا شروع کردیا۔

الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ’’میری خولہ کا خون اسکول میں موجود ہے، اس کی دوبارہ تعمیر میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک کی بنیادیں کمزور کرنے والے تعلیم دشمنوں کو شکست دے سکوں۔ وہ حملہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور زندہ بچ جانے والے طلبہ مجھے تحریک دیتے ہیں۔ اج اسکول میں طلبہ کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے جو ہماری فتح اور دہشتگردوں کی شکست ہے۔ شہادت پانے والے بہادر طلبہ کے باعث والدین اپنے بچوں کا داخلہ یہاں کروانے میں فخرمحسوس کرتے ہیں‘‘۔

اس سانحےنے الطاف کے پورے خاندان کو متاثرکیا۔ خولہ کی غمزدہ والدہ دل کے امراض میں مبتلا ہوئیں جبکہ خوف کے باعث ان کا بڑا بیٹا محمد ثمرڈیڑھ سال تک نارمل نہ ہوسکا۔ بہن کے علاوہ دوسرے بچوں کو بھی اس حال میں دیکھنے والا محمد ثمرخود بچ نکلا لیکن تلخ اثرات کے باعث بات چیت بند کردی اور پڑھائی میں بھی انتہائی کمزور ہوگیا۔ 4 ٹیوٹرز رکھنے کے بعد جماعت نہم میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہونے والا محمد ثمر اب زندگی کی جانب لوٹ آیا ہے۔

الطاف حسین کی اہلیہ بیماری کے باوجود ان کا مشن آگے بڑھانے کیلئے مکمل حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ ایک بارمیں نے آبائی علاقے ہزارہ واپسی کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن میری اہلیہ نے مجھے روکا کہ ہماری بیٹی نے اس اسکول کے لیے اپنی جان دی ہے، آپ کو اسے عظیم بنانے کیلئے جدو جہد کرنی ہوگی‘‘۔

ہرسال دسمبرآتے ہی عزیزواقارب اور دوست الطاف حسین کے یہاں آتے ہیں، وہ انہیں ’’خولہ کے مہمان ‘‘ کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘‘، انہیں پاکستان کے دشمنوں کی جانب سے تیار کیا جاتا ہے۔

سانحے کے 4 سال مکمل ہونے پر کنٹونمنٹ بورڈ پشاورکی جانب سے شہید ہونے والے معصوم بچوں کے اعزاز میں بینرز نصب کیے گئےہیں۔ الطاف حسین رک کر الیکٹرک پول پر نصب بینر پرموجود اپنی معصوم خولہ کی تصویرکو دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ یہ تصویر مجھے دکھ تو دیتی ہے لیکن ساتھ ہی میرا مشن جاری رکھنے کے لیے مضبوطی اور تحریک بھی عطا کرتی ہے‘‘۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube