Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  16

چینی قرضہ پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضوں پر دس فیصد ہے، اسد عمر

SAMAA | - Posted: Dec 12, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 12, 2018 | Last Updated: 3 years ago

 وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان پر چینی قرضہ ملک کے مجموعی بیرونی قرضوں کا صرف دس فیصد ہے۔


بي بي سي کے پروگرام ہارڈ ٹاک ميں سخت سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاک چين تجارتي معاملات پر پريشان ہونے کے بجائے امريکا کو خود پر چڑھے چيني قرض کي فکر کرني چاہيے جس کا حجم 13 کھرب ڈالر ہے جبکہ پاکستان پر چینی قرضہ ملک کے مجموعی بیرونی قرضوں کا دس فیصد ہے۔

ایک سوال پر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کو انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئي ايم ايف) سے ڈکٹيشن لينے کي کوئي ضرورت نہيں ہے کیونکہ ملک ميں جاري اصلاحات حکومت خود کر رہي ہے جبکہ چين کے ساتھ معاہدوں کي تفصيلات سے آئي ايم ايف آگاہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان گذشتہ 30 برسوں میں آئی ایم ایف سے 12 مختلف پروگراموں میں گیا لیکن یہ سوال پہلے کیوں نہیں پوچھا گیا کہ کس ذرائع اور کس ملک نے پاکستان کو کتنا قرضہ دے رکھا ہے؟

مزید پڑھیئے، آئی ایم ایف کے پروگرامز پاکستان کے لیےکیوں کارآمد نہیں ہیں

مزید پڑھیئے، پاکستان آخری بار آئی ایم ایف کے پاس جارہا ہے، وزیرخزانہ

وفاقي وزير خزانہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ابتدائی سو دنوں ميں ہم نے گيس اور بجلي کي قيمت بڑھائي، ہم ضمني بجٹ لائے جس ميں ٹيکس کو بڑھايا گيا۔ مرکزي بينک کي طرف سے پاليسي ريٹ ميں اضافہ کيا گيا، روپے کي قدر ميں کمي ہوئي تو فسکل اور مانيٹری پاليسی دونوں ہی اصلاحات کی سمت ميں بڑھ رہی ہيں۔

اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کے سعودي عرب کے ساتھ تعلقات گزشتہ پچاس سالوں پر محيط ہیں اور ان ديرينہ تعلقات کا جمال خاشقجي يا يمن کے مسئلے سے کچھ لينا دينا نہيں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربي ملکوں کے رہنماوں کو شرم آني چاہيے جو جمہوريت اور آزادي کي بات کرتے ہيں لیکن پھر سعودي عرب کي جيبوں ميں جھانکنے آجاتے ہيں تاکہ اربوں ڈالرز کاروبار سے کما سکيں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube