Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

احتساب عدالت کے روبرو نواز شریف کا فلیگ شپ ریفرنس میں بیان مکمل

SAMAA | - Posted: Dec 6, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 6, 2018 | Last Updated: 3 years ago

ایون فیلڈ اور العزیزیہ کے بعد نواز شریف نے فلیگ شپ ریفرنس میں بھی اپنا دفاع پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ دفعہ تین سو بیالیس کے تحت بیان مکمل ہوگیا، جس میں انہوں نے اپنے اُوپر لگے تمام الزامات کی تردید کر دی، کہا استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں بُری طرح ناکام رہا، خاندانی مصائب اور پرانے کاروبار کی کہانی بھی سنائی۔

احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز کی سماعت کے دوران آج جمعرات کو نواز نواز شریف کی 119 ویں پیشی تھی۔ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف نے بیان مکمل کرایا اور تمام 141 سوالوں کےجواب دے دیئے۔

العزیزیہ میں وکیل صفائی خواجہ حارث کے تیسرے حتمی دلائل جاری ہیں۔

فلیگ شپ ریفرنس میں بیان قلمبند کرتے ہوئے نواز شریف اپنے خلاف تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا اور ساتھ ہی اپنا دفاع پیش کرنے سے انکار بھی کردیا۔ انہوں نے کہا ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہیں ، استغاثہ بار ثبوت منتقل کرنے میں ناکام رہا۔

نواز شریف نے 1970 اپنے اثاثے گنوائے، کہا سیاست میں آنے کے بعد میرے خاندان اور کاروبار کو نشانہ بنایا گیا، ہم نے کمایا نہیں گنوایا ہی ہے، آج بھی انتقامی کارروائی کے باعث ہمارے کئی یونٹس پر تالے پڑ چکے ہیں،

اتفاق فاؤنڈری اور اپنی پرانی کاروں کی تصاویر بھی عدالت میں پیش کر دیں۔

سابق وزیراعظم نے نیب پر سوالات بھی اٹھائے، کہا ہزاروں پاکستانی بیرون ملک کاروبار کررہے ہیں ، کیا ان سب کے خلاف کارروائی کی جائے، اگر نہیں تو پھر دو بیٹوں کے والد کو کیوں کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔

العزیزیہ ریفرنس میں حتمی دلائل کے دوران خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ہمارا شروع سے ایک ہی مؤقف ہے کہ نواز شریف کا جائیدادوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube