Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  17

مظاہرین سے معاہدے پر آسیہ بی بی کے شوہر کی حکومت پر تنقید

SAMAA | - Posted: Nov 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago

آسیہ بی بی کے شوہر نے مظاہرین سے طے پانے والے معاہدے پر تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ان کی اہلیہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔


مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ بی بی کو عدالت نے توہین رسالت کے الزام پر 2010 سے سزائے موت سنا رکھی تھی لیکن 30 اکتوبر کو عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کا سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔

عدالتی حکم کے بعد سے ملک میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے اور دھرنے جاری تھے جو کہ حکومت کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں جمعہ دو نومبر کی رات اختتام پذیر ہوئے۔

معاہدے کے مطابق آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیا جائے گا جبکہ نظرثانی درخواست کے خلاف حکومت اعتراض نہیں کرے گی۔

حکومت سے معاہدہ طے پانے کے بعد تحریک لبیک نے دھرنا ختم کر دیا

جرمن ڈوئچے ویلے ریڈیو سے بات کرتے ہوئے آسیہ بی بی کے شوہر عاشق نے کہا کہ عدالت پر اس طرح دباؤ ڈالنے کی مثال قائم کرنا بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ بہادری سے دیا لیکن حکومت کو مظاہرین کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیئے تھا۔

آسیہ بی بی کے شوہر کا مزید کہنا تھا کہ ’’موجودہ صورتحال ہمارے لیے بہت خوفناک ہے کیونکہ ہمارے پاس سیکیورٹی نہیں اور ادھر ادھر چھپتے پھر رہے ہیں، اپنی رہائش ہم جلد تبدیل کر رہے ہیں‘‘۔

سپریم کورٹ کا آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم

عاشق کا مزید کہنا تھا کہ ’’حالیہ صورتحال آسیہ کےلیے خطرے سے باہر نہیں اور میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ اس کی زندگی بہت خطرے میں ہے لہذا حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ جیل میں آسیہ کی سیکیورٹی ممکن بنائی جائے‘‘۔

آسیہ بی بی کے وکیل اپنی جان کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے ہفتہ 3 نومبر کو ملک چھوڑ گئے ہیں۔

خبر انگریزی میں پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube