Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  15

انسانی وسائل کی ترقی،ممنوعہ جال،مرکز نگاہ

SAMAA | - Posted: Oct 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago

انسانی وسائل کی ترقی بلوچستان کی اہم ضرورت ہے،جام کمال

روزنامہ باخبر

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کی معاشی و سماجی ترقی کے لئے انہیں ٹیکنیکل ٹریننگ کی فراہمی کے ذریعہ ہنر مند افرادی قوت کے طور پر آگے لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت محکمہ تعلیم، محکمہ صنعت اور محکمہ محنت و افرادی قوت کے زیراہتمام پولی ٹیکنک انسٹیوٹس اور فنی تربیتی ادارے کام کررہے ہیں تاہم ان کو زیادہ فعال اور مفید بنانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے جس سے صنعت کاری اور تجارتی سرگرمیوں کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے جو روزگار کی فراہمی کے بڑے ذرائع ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں جرمنی کے معاونتی پروگرام کے ذریعہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ٹیکنیکل ٹریننگ کے ادارے قائم ہوئے جہاں سے کثیر تعداد میں نوجوان ہنرمند بن کر نکلے، اسی طرز پر مزید تربیتی اداروں کے قیام کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بی ٹیوٹا کو بھی فعال کرے گی اور سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فنی تربیتی شعبہ کی ترقی اور ترویج کی جائے گی۔

محکمہ فشریز کی سمندر میں کاروائی ممنوعہ جال استعمال کرنے والی لانچ دھر لی

روزنامہ قو می آواز

حکومت بلوچستان کی جانب سے بلوچستان کے ساحل سمندر میں ممنوعہ جالوں کے استعمال پر پابندی عائد ہے، اسی پابندی کے پیش نظر محکمہ فشریز ڈام نے کاروائی کرتے ہوئے سندھ سے آئی ہوئی ممنوعہ جال گجہ نیٹ استعمال کرنے والی لانچ دھر لی اور عملے کے دو افراد کو بھی حراست میں لے لیا ۔فشریز ڈام کی اس کاروائی سے گڈانی فشریز کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ۔خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے گڈانی فشریز کی مبینہ ملی بھگت سے ایسے ممنوعہ جال استعمال کرنے والی لانچیں چوری چپکے سے لسبیلہ کے ساحل سمندر میں مچھلی کی نسل کشی میں مصروف عمل ہیں،ماہیگیروں نےوزیراعلی بلوچستان سے اس پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

گوادر دنیا کا مرکز نگاہ ہے مگر وہاں بجلی موجود نہیں،سینٹ کمیٹی

روزنامہ انتخاب

ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا ایک اہم اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں کہا گہا کہ بلوچستان میں 90 فیصد ریکوری کے نقصان کی وجہ سے لوڈ شیدنگ کی جارہی ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ پوری دنیا کا مرکز نگاہ بنے ہوئے گوادر شہر میں بھی بجلی کی لوڈ شیدنگ کی جارہی ہے جو گوادر کی عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube