Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے پر ڈی جی نیب کی سرزنش، عدالت نے معافی قبول کرلی

SAMAA | - Posted: Oct 13, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 13, 2018 | Last Updated: 4 years ago

پنجاب يونيورسٹي کے سابق وائس چانسلر اور دیگر اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے پر چيف جسٹس نے ڈی جی نیب کی معافی قبول کرلی۔


ہفتہ 13 اکتوبر کو اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے پر سپریم کورٹ لاہور میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت اور ڈی جی نیب سلیم شہزاد کا تحریری معافی نامہ قبول کرتے ہوئے ازخود نوٹس نمٹا دیا۔

سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے ڈي جي نيب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرا تاثر تمھارے بارے میں اچھا تھا، نیب خدا کا خوف کرے لوگوں کو بے عزت نہ کرے، جرم بنتا ہے تو کیس کریں۔ استاد کی بے عزتی برداشت نہیں کي جاسکتی۔

عدالت میں ڈی جی نیب کی آنکھوں میں آنسو آنے پرچيف جسٹس نے کہا کہ اب آنکھوں میں آنسو کیوں آرہے ہیں، نیب والے بھی ہتھکڑی میں جائیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس استاد کو ہتھکڑی لگی اس کے لیے تو موت کا دن ہے۔

سابق وائس چانسلر کی ہتھکڑیوں میں نیب کورٹ میں پیشی، چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

چيف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈي جي نيب عدالت سے باہر جا کر کہتا ہے چیف جسٹس دو ماہ میں ریٹائرڈ ہونے والے ہيں، ہمارے پاس پوری معلومات ہیں۔

ڈي جي نيب نے کہا کہ میں نے اساتذہ سے معافی مانگی اور آدھا گھنٹہ ان کے ساتھ رہا، عدالت اور قوم سے بھي معافی مانگتا ہوں۔

کچھ دن قبل پنجاب یونیورسٹی کے 70 سالہ سابق وائس چانسلر مجاہد کامران سمیت دیگر اساتذہ کو ہتکھڑیاں لگا کر احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر چیف جسٹس نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب لاہور کو طلب کیا تھا۔

سابق وائس چانسلر پر اقرباء پروری، کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات ہیں، کامران مجاہد نے اپنی بیوی کو پرنسپل لاء کالج مقرر کروایا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube