Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

ایف آئی اے، نیب، ایف بی آر پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثے واپس لانے میں ناکام، رپورٹ

SAMAA | - Posted: Aug 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago
[caption id="attachment_1172797" align="alignnone" width="640"] Source: Reuters[/caption]

پاکستاںیوں کے بیرون ملک اثاثوں و بینک اکاؤنٹس کے معاملہ پر ایف آئی اے، نیب، ایف بی آر اثاثے واپس لانے میں ناکام ہوگئی، مجاذ کمیٹی نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔

کمیٹی کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق رقوم کی واپسی کیلئے نیب باہمی قانونی معاونت کیلئے کوشاں، نیب نے مختلف ممالک کو 433 مراسلے لکھے، 152 کا جواب ملا۔

پاناما،پیراڈائز لیکس میں شامل 374 افرادکیخلاف قانونی کارروائی نہ ہوسکی، آف شور کمپنیاں،ایف بی آر کو متعلقہ معلومات نہ مل سکی،متعلقہ اداروں میں روابط کا قفدان بھی ناکامی کی ایک وجہ قرار،نیب نے پاناما لیکس پر 9 انکوائریاں کی، 3 ریفرنسزداخل کئے،نیب نے بیرون ملک سے 22 ملین ڈالرزرقم کی وصولی کی۔

پاناما لیکس میں شامل 336 افراد کیخلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا، ایف بی آر نے پیراڈائز لیکس میں شامل 38 افراد کیخلاف کارروائی شروع کی، ایف بی آر کو معلومات حاصل کرنے میں قانونی مشکلات کا سامنا ہے، رقوم کی واپسی باہمی قانونی معاونت کےمعاہدوں کے بغیر ممکن نہیں،ایف آئی اے نے بیرون ملک 662 جائیدادوں کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

قوانین میں حالیہ ترامیم سے بہتر نتائج ملنے کی توقع ہے،کمیٹی نے سپریم کورٹ سے مزید3ماہ کی مہلت مانگ لی، عدالت کمیٹی کو تمام کیسز پر مشترکہ کام کرنے کا حکم دے، مطلوبہ نتائج حاصل ہوئےتو آئندہ لائحہ عمل تجویز کیا جائے گا، نتائج نہ نکلےتوحاصل شدہ تجربےکی روشنی میں آگے بڑھیں گے۔

 
WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube