Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

کالجز نہ ہونے کے باعث سوات میں ہزاروں طلبہ داخلوں سے محروم

SAMAA | - Posted: Aug 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago

ضلع سوات میں کالجز نہ ہونے کے باعث سوات کے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔ جہانزیب کالج میں سیٹیں کم ہونے کے باعث 950 سے زائد نمبر لینے والے طلبا بھی داخلے سے محروم رہ گئے جبکہ سابقہ حکومت نے تعلیمی میدان میں انقلاب کے دعؤوں کے باوجود ضلع سوات میں ایک بھی کالج قائم نہیں کیا۔

سوات سے سما ٹی وی کے نمائندہ شہاب الدین کے مطابق ضلع سوات کے مرکزی شہر منگورہ میں ایک پوسٹ گریجویٹ کالج ہے جبکہ ایک ہی ڈگری کالج ہے۔

جہانزیب پوسٹ گریجویٹ کالج اس وقت قائم ہوا جب سوات پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ ایک خود مختار ریاست تھی۔  اس کی بنیاد سابق والئی سوات نے 1952 میں رکھی۔ اس کے بعد سوات میں کوئی پوسٹ گریجویٹ کالج نہ بن سکا۔

جہانزیب کالج کی عمارت 2015 میں زلزلہ کے باعث مخدوش قرار دی گئی اور اس کا کچھ حصہ مسمار بھی کیا گیا تاہم اس کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا۔

ماضی میں کالج میں ہرسال ایک ہزار سے بارہ سو تک طلبا کو داخلہ دیا جاتا تھا۔ اب چھ ہزار درخواستوں میں سے صرف ساڑھے چار سو طلباء کو داخلہ مل سکے گا۔

ایک طالب علم نظام الدین نے سما ٹی وی کو بتایا کہ میٹرک میں 969 نمبر لینے کے باجود جہانزیب کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ اب ہم کہاں جاکر تعلیم حاصل کریں۔ نظام الدین اکیلے نہیں بلکہ 6ہزار طلبہ میں سے 5 ہزار 500 طلبہ مایوس لوٹ چکے ہیں۔

ان طالب علموں کو اب پرائیویٹ کالجز میں بھاری فیسیں دے کر گیارہویں جماعت میں داخلہ حاصل کرنا ہوگا یا سوات سے نکل کر دوسرے شہروں میں ہاسٹلوں میں قیام کرنا پڑے گا۔

جہانزیب کالج کے پرنسپل سراج احمد نے سما ٹی وی کو بتایا کہ عمارت تعمیر نہ ہوسکی ہے۔ طالب علموں کو بٹھانے کی جگہ نہیں ہے۔ ہم پالیسی کے تحت ہی بچوں کو داخلہ دے سکتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ کالج کے پاس اپنے دو بڑے ہاسٹل موجود ہیں۔ ان میں تدریسی عمل شروع کیا جائے تاکہ بچے داخلوں سے محروم نہ رہ جائے۔

اسی منگورہ شہر میں ایک ڈگری کالج ہے جس میں سالانہ محض دو سو طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے جبکہ یہاں بھی داخلہ کے خواہش مند ہزاروں کی تعداد میں ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube