Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

لیاری میں بلاول کی ریلی پر پتھراؤ، گو بلاول گو کے نعرے لگ گئے

SAMAA | - Posted: Jul 1, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 1, 2018 | Last Updated: 4 years ago

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کیلئے اپنے حلقے کے دورے پر نکلے تولینے کے دینے پڑ گئے۔

دورہ لياری کے دوران جيالوں نےشدید احتجاج کرتے ہوئے گو بلاول گو کے نعرے لگا دیے۔ کچھ مشتعل کارکنوں نے کھوکھلے دعوؤں کیخلاف مشتعل ہوکر بلاول کی گاڑی کا گھيراؤ کرنے کی بھی کوشش کی جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنادیا۔

جیالوں کی پی پی کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ بلاول کے خلاف بولنے والوں میں پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھے جانے والے لیاری کی خواتین بھی شامل تھیں۔

 بلاول بھٹو نے لیاری کا رخ کیا تو علاقے کے مکین مشتعل ہوگئے۔ انہوں نے چھتوں پر سے بوتلیں اور خالی برتن پھینکتے ہوئے پانی دو پانی دو کے نعرے لگائے۔

ریلی جب بغدادی سے نکل کر آٹھ چوک کی طرف روانہ ہوئی۔ تو کچھی واڑا کے علاقے میں بلاول کے قافلے پر نامعلو افراد کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا۔ جونا مسجد کے قریب مشتعل افراد کے سامنے آنے پر بلاول نے ریلی کا روٹ تبدیل کردیا۔ ریلی انتظامیہ نے بلاول کو سکیورٹی حصار میں لے لیا۔

کشیدہ صورتحال پر بلاول بھٹو پریشان دکھائی دیے۔ وہ فون کالز کا جواب بھی دیتے نظر آئے۔

پیپلز پارٹی کے جیالوں نے نعرے بازی کی تو ان پر پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس نے بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی۔ مگر پتھراؤ جاری رہا جس کے نتیجے میں کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جیالے بھی پتھراؤ کرتے رہے۔

کچھ لوگ پیپلز پارٹی کے جھنڈے نذر آتش کرتے دیکھے گئے۔ مختلف گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے گئے۔ نبیل گبول کی گاڑی کے شیشے بھی توڑ دیے۔

پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی جو موقع پر وقت پر نہیں پہنچ سکی۔ پارٹی کے رہنما اپنی گاڑیوں میں موجود ہیں۔

پتھراؤ کے نتیجے میں ریلی منتشر ہوگئی۔  بعد ازاں بلاول نے چاکیواڑہ کے علاقے میں لوگوں سے خطاب بھی کیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ پتھراؤ کرنے والے ایم کیو ایم کے لوگ تھے۔

پیپلز پارٹی رہنما نادیہ گبول کہتی ہیں کہ مخالفوں نے یہ کام کیا ہے وہ ریلی جاری رکھیں گے۔ مخالفین بلاول کی انتخابی مہم سے خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ لیکن ہم نے ہمیشہ تشدد کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں اور کھڑےرہیں گے۔

سینئر رہنما نثار کھوڑو کہتے ہیں پیپلز پارٹی پورے ملک کی پارٹی ہے۔ کسی گملے میں پیداشدہ پارٹی نہیں ہے۔ یہ قافلہ 1970 سے چلا ہے۔ لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی بھی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا پھر یہ جمہوری قافلہ بینظیر بھٹو کی سربراہی میں چلتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت اور پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔

متشدد لوگوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہ سکتے کہ یہ لوگ کس کے کہنے پر آئے تھے۔ میں ان مشتعل لوگوں سے کہتا ہوں کہ حوصلہ پکڑو۔ لوگوں کو آزادانہ فیصلہ کر کے ووٹ دینے دو۔

ان کا کہنا تھا آپ کے پتھروں سے ہمارے دل کمزور نہیں ہونگے۔

نادیہ گبول نے کہا کہ رینجرز اور پولیس کے جوان کھڑے تھے کیا انکو دکھائی نہیں دے رہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔

پانی کے مسئلے پر پیپلز پارٹی نے کیا کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا یہ سوال لمبی بحث طلب ہے۔ جب جنریلز حکمران تھے انہوں نے کیاکیا پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے۔ سالہا سال حکومت میں رہنے کے باوجود ایم کیو ایم نے کیا کیا اس حوالے سے۔

ایم کیو ایم رہنما محفوظ یار خان نے کہا کہ ہم اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے لوگوں نے پتھراؤ کیا۔ انہوں نے کہا لیاری میں انتخابی مہم میں بلوچ محلوں کے لوگوں نے انکا والہانہ استقبال کیا ہے۔ یہ لوگ پیپلز پارٹی کے پکے حامی تھے۔

انہوں نے کہا ایم کیو ایم لیاری کی تاریخ کا عظیم الشان انتخابی جلسہ منعقد کرے گی۔

سعید غنی نے کہا کہ لیاری کے ہزاروں لوگوں نے چئیرمین عمران خان کا استقبال کیا ہے۔ اور سخت گرمی میں انکے ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں۔ یہ صرف چند شرپسند لوگ تھے جنہوں نے ہماری گاڑیوں پر پتھر مارے۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہم اس پتھرباری کا جواب دیں حالانکہ ہمارے پاس لوگ تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ ورنہ اگر ہم بھی پتھراؤ کرتے تو ان بیس پچیس لوگوں کا کیا حال ہوسکتا تھا۔ ہم اپنی انتخابی مہم کا آغاز کررہے ہیں۔

سعید غنی نے کہا یہ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ حکومت، الیکشن کمیشن اور رینجرز اور پولیس کے لیے کہ پارٹی سربراہ جو لوگوں سے ملنا چاہتا ہے اس پر پتھراؤ کیا گیا ہے۔

نبیل گبول کا کہنا تھا کہ لیاری کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے۔ اس سے پہلے انتخابی مہم میں ہم پر فائرنگ تک ہوئ ہے۔ یہاں ہمارے مخالفین اور جرائم پیشہ لوگ بھی ہیں۔ ان لوگوں کو خاص مقاصد کے لیے بلایا گیا ۔

نبیل گبول نے کہا پتھراؤ کرنے والوں میں کچھ علاقے کے لوگ ہیں جن کو وہ ذاتی طور پر پہچانتے بھی ہیں۔ لیکن ان کو ورغلایا گیا ہے۔ تحریک لبیک کے کچھ لوگ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ یہ واقعہ شاہ بھٹائی روڈ پر حنیف بلڈنگ کے سامنے پیش آیا۔ جہاں بیس پچیس لوگوں نے پتھراؤ کیا۔ اس کے بعد ہم نے ریلی کا روٹ تبدیل کردیا۔ اور احمد شاہ بخاری روڈ سے ہوکر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube