Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

تعلیم و صحت کی خراب صورتحال، 2 سابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان سپریم کورٹ طلب

SAMAA | - Posted: Apr 10, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 10, 2018 | Last Updated: 4 years ago

کوئٹہ : چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ بلوچستان میں تعلیم کی حالت سندھ سے بھی بدتر ہے، صوبے میں کوئی گورننس نہیں، تعلیم سے متعلق پالیسی مرتب کرکے 15 روز میں پیش کی جائے اور عدالت کو بتایا جائے کہ کتنے عرصے میں سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنائی جائے گی۔

چیف جسٹس نے 2 سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواب ثناء اللہ خان زہری کو 30 اپریل کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان میں تعلیم، صحت اور پانی کی صورتحال سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے دونوں سابق وزرائے اعلیٰ کو آج طلب کیا تھا تاہم وہ پیش نہ ہوسکے۔

تعلیم کے معاملے پر سماعت کے دوران سیکریٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ صوبے کے 11 ہزار سے زائد پرائمری اسکولوں میں سے صرف ایک ہزار اسکولوں کی چار دیواری موجود ہے جبکہ صرف 1700 میں بجلی کی سہولت موجود ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیف سیکریٹری بلوچستان اور سیکریٹری تعلیم سے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ کتنے عرصے میں سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنائی جائے گی۔

انہوں نے تعلیم کی صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ بلوچستان میں تعلیم کی حالت سندھ سے بھی بدتر ہے، صوبے میں کوئی گورننس نہیں، انہوں نے ہدایت کی کہ تعلیم سے متعلق پالیسی مرتب کرکے 15 روز میں پیش کی جائے۔

سماعت کے دوران ینگ ڈاکٹرز کے معاملے پر جسٹس ثاقب نثار نے سیکریٹری صحت سے استفسار کیا کہ ینگ ڈاکٹرز کو اب تک تنخواہیں کیوں ادا نہیں کی گئی ہیں؟، ڈاکٹروں کو 24 ہزار روپے تنخواہیں ادا کی جارہی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے ڈرائیور کی تنخواہ بھی 35 ہزار روپے ہے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ہاؤس جاب کرنیوالے ڈاکٹروں کو ایک ہفتے میں تنخواہیں ادا کی جائیں اور ینگ ڈاکٹروں کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے سیکریٹری صحت سے کہا کہ سول اسپتال میں ایک بھی ایم آر آئی مشین نہیں ہے، عدالت سیکریٹری صحت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube