Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  17

وفاقی وزارتوں میں اربوں کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

SAMAA | - Posted: Aug 28, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 28, 2017 | Last Updated: 5 years ago

اسلام آباد : وفاقی وزارتوں میں 3120 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، گیارہ سو ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس کی تو پارلیمنٹ سے منظوری بھی نہیں لی گئی۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ 2016-17 میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں 32 وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں 3120 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں بے نقاب ہوئی ہیں۔

وزارت خزانہ 656 ارب روپے کے اخراجات کی وضاحت نہیں کر سکی دیگر مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے352 ارب روپے کے اضافی اخراجات کر ڈالے، وفاقی وزارتوں نے 217 ارب کے فنڈز واپس قومی خزانے میں جمع بھی نہیں کرائے ۔

آڈٹ رپورٹ میں 1900 ارب کے 33 کیسز میں مالی بد انتظامیوں کی بھی نشاندہی 730 ارب روپے کی تو صرف اضافی ادائیگیاں ہی کردی گئیں ۔

آڈیٹر جنرل کا مالی سال 2015-16 میں 1100 ارب کی غیر ضروری سپلیمنٹری گرانٹس پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا صرف ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس کا ریکارڈ پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا 261 اور دیگر 838 ارب کی سپلیمنٹری گرانٹس کی پارلیمان سے منظوری لینا بھی گواراہ نہیں کیا گیا۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube