Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  17

پاک افغان سرحدی انتظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے

SAMAA | - Posted: Jan 23, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 23, 2017 | Last Updated: 5 years ago

PAKISTAN-AFGHANISTAN-REFUGEES-FILES
اسلام آباد : سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے سرحدی انتظام کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

صحافیوں سے گفت گو کرتے ہوئے ،سینیٹرلیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گری کا خاتمہ آپریشن ضرب عضب سے کیا جارہا ہے، انھوں نے کہا کہ پاراچنار میں دہشت گرد حملے کے حوالے سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ پارا چنار پاک افغان سرحد پر واقع بہت اہم علاقہ ہے اور افغانستان سے بہت سارے دہشتگرد اس علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے اور کارروائیاں کر کے وآپس چلے جاتے ہیں۔

General-retd-Abdul-Qayyum-interview-in-MWF-620x330
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نے کہا کہ دہشت گردوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے پاک سیکیورٹی فورسز کی 8 سو چوکیاں، جب کہ افغانستاں کی صرف 62 چیک پوسٹیں سرحدی علاقے میں کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک فورسز دہشت گردوں کی بہت سی کارروائیاں ناکام بنا دیتی ہے ، اس کے باوجود کوئی ایک آدھ واقع رونما ہو جاتاہے۔ سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ افغان حکومت کی کئی علاقوں میں رٹ قائم نہیں ہے تاہم افغان اور پاکستان دونوںممالک کو چاہیے کہ دہشتگردوں کی سرحد پار نقل و حرکت کو روکنے کے لئے سرحدی انتظام کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

registered-afghan-refugees-can-stay-in-pakistan-by-31st-december-this-year-pm-approved-1467221248-7092
انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا پارا چنار کا دورہ ، دھماکے کے زخمیوں کی عیادت دہشت گردوں کے خاتمے کے عزم کا اظہار خوش آئند ہے، حکومت اور سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خاتمہ کے لئے متحد ہیں اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جارہا ہے، پاکستانی سیکیورٹی فورسز مکمل طور پرشدت پسندوں کے خاتمہ کے لئے مصروف عمل ہیں اور موجودہ حکومت دہشتگردوں سے نمٹنے کے لئے مزید پالیسیاں وضع کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube