Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

چوہدری نثار کی بھارتی وزیر داخلہ پر تنقید، سیاسی مخالفین کو بھی خوب لتاڑا

SAMAA | - Posted: Aug 12, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 12, 2016 | Last Updated: 6 years ago

Nisar Samaa Sot 12-08

اسلام آباد : چوہدری نثار علی خان نے بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا، وزیر داخلہ کہتے ہیں پاکستان نے میزبانی کے تقاضے پورے کئے مگر بھارتی وزیر نے آداب کا خیال نہ رکھا، میری تقریر کا جواب دینے کے بجائے واپس بھاگ گئے، کیخلاف پاکستان میں احتجاج مہذب تھا، پاکستان میں احتجاج کشمیریوں پر ہونیوالے ظلم کیخلاف تھا، پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے، ہم نے میٹنگ میں کہا کشمیر پر مسائل کا حل ڈھونڈیں، بھارت دھمکی دیتا ہے اور مذاکرات کے دروازے بھی بند کردیتا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھارتی وزیر کو خوب کھری کھری سنائیں، بولے کہ ہم نے مہمان نوازی کے تقاضے پورے کئے مگر مہمانوں نے اپنے تقاضے پورے نہیں کئے،  حکومت کی جانب سے بیان دینا میرا فرض تھا، سارک کانفرنس میں پاکستان نے میزبانی کے فرائض پورے کئے، بھارتی وزیر داخلہ کیخلاف احتجاج مہذب تھا، نہ کسی کا منہ کالا کیا اور نہ ہی تقاریب میں شرکت سے روکا گیا، بھارت میں پاکستانیوں کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ سارک میٹنگ میں میری طرف سے صرف ڈنر تھا، سارک میٹنگ کا میں نہیں، پاکستان میزبان تھا، پاکستان میں احتجاج کشمیریوں پر ہونیوالے ظلم کیخلاف تھا، ہم نے میٹنگ میں کہا کشمیر پر مسائل کا حل ڈھونڈیں، میری تقریر کے بعد بھارتی وزیر داخلہ جواب دے سکتے تھے، جواب دینے کے بجائے وہ میٹنگ چھوڑ کر بھارت چلے گئے، میرے بیان کا جواب مل جاتا تو عمل پورا ہوجاتا، راجیہ سبھا میں جواب دینے کے بجائے یہاں جواب دیتے۔

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے بھی میرے بیان کی حمایت کی، ایک سیاسی جماعت کو سانپ سونگھ گیا، جس کا لیڈر لکھی تقریر پڑھتا ہے، ہیرو ولن اور ولن ہیرو نہ بنیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے، پاکستانی قوم کسی کے تسلط میں نہیں رہ سکتی، کشمیر میں مظالم پاکستانی قوم کو قبول نہیں، بھارت دھمکی دیتا ہے اور مذاکرات کے دروازے بھی بند کردیتا ہے۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube