Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

تحریک انصاف ایک ہفتے میں ثبوت دے، کمیشن کا حکم

SAMAA | - Posted: Apr 16, 2015 | Last Updated: 7 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 16, 2015 | Last Updated: 7 years ago

ویب ایڈیٹر:

اسلام آباد:عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن نے کارروائی کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو شواہد جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت اور چیئرمین نادرا کو 3 روز میں 37 حلقوں کی فارنزک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی پہلی سماعت کھلی کچہری میں کی۔ چیف جسٹس ناصر المک کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل شامل ہیں ۔سابق اٹارنی جنرل کے کے آغا کو عدالتی معاون اور معروف قانون دان حامد علی خان کو کمیشن کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔

دوران سماعت جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف کو کمیشن کے سوالات کی روشنی میں شواہد فراہم کرنے ہوٕں گے اور یہ بتانا ہو گا کہ پی ٹی آئی کے نزدیک انتخابات شفاف کیوں نہیں تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اس بات کا بھی جواب دینا ہو گا کہ ان کی جانب سے حکومت پر عائد کیے گئے منظم دھاندلی کے الزامات کی بنیاد کیا ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کمیشن کے سامنے کہا کہ جو حکومت حقیقی عوامی مینڈیٹ کی آئینہ دار نہ ہو اسے حکمرانی کا حق نہیں، پارٹی موقف پیش کرتے ہوئے عبدالحفیظ نے کہا کہ کمیشن کا فیصلہ جمہوریت اورریاستی ڈھانچے کی درستگی کیلئے اہم ہے، کمیشن انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا نہیں بلکہ  اس کے منصفانہ ہونے کا تعین کرے گا۔

جوڈیشل کمیشن نے سیاسی رہنماؤں کو احاطہ عدالت میں بیان بازی سے روکتے ہوئے عدالت کی حدود میں متعلقہ افراد کے انٹرویوز پر بھی پابندی عائد کردی،چیف جسٹس ناصرالملک نے میڈیا کو ہدایت جاری کی وہ کیس کے میرٹ پر زیادہ بات نہ کرے اور جانبدار بھی نہ ہو۔چیف جسٹس ناصر المک نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو عام کیا جائے گا ۔

جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر پیپلزپارٹی،جماعت اسلامی، اے این پی اور تحریک انصاف نے دھاندلی سے متعلق شواہد جمع کرا دیے ہیں جبکہ مسلم لیگ ق اورایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیم فافن نے بھی جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست دے رکھی ہے۔حکومت اورتحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام کے معاہدے پر یکم اپریل کو دستخط کیے گئے تھے جبکہ کمیشن کا آرڈیننس 3 اپریل کو جاری کیا گیا تھا۔ ن لیگ کی جانب سے اسحاق ڈاراور پی ٹی آئی کی جانب سے جہانگیر ترین نے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ گواہ بنے تھے۔جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد پی ٹی آئی اپنا احتجاج ختم کر کے ساڑھے 7 ماہ کے بعد اسمبلیوں میں واپس آئی اور یمن کے معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔

۔جوڈیشل کمیشن 6 ہفتے میں اس بات کا تعین کرے گا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں۔ سماء۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube