Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

قومی اسمبلی : پاک فوج پر الزامات سے متعلق اسپیکر اور شیخ رشید میں تلخ جملوں کا تبادلہ

SAMAA | - Posted: May 5, 2014 | Last Updated: 8 years ago
SAMAA |
Posted: May 5, 2014 | Last Updated: 8 years ago

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : اسپیکر قومی اسمبلی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ  ہوا، نکتہ اعتراض پر بولنے کی اجازت نہ ملنے اور مائیک بند کرنے پر شیخ رشید سیخ پا ہوگئے، کہتے ہیں حکومت ایک نجی ٹی وی چینل کی جانب سے قومی سلامتی کے ادارے پر الزام تراشی جیسے اہم معاملے پر بحث کرنے سے کیوں گھبرارہی ہے، حامد میر پر حملہ ہوا تو 8 گھنٹے مسلسل ٹرانسمیشن چلائی گئی، متحدہ قومی موومنٹ نے کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، حکومتی رکن برجیس طاہر نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر بحث شروع کرنے کی تحریک پیش کی، اس دوران شیخ رشید نے نکتہ اعتراض پر بولنے کی اجازت چاہی لیکن اسپیکر نے بولنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور ان کا مائیک بند کروادیا۔

شیخ رشید اور اسپیکر میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ ایک نجی ٹی وی چینل نے قومی سلامتی کے ادارے پر الزام تراشی کی ہے، اس پر بولنے کا موقع دیا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایوان میں اس ایشو پر بات نہیں ہوگی، آپ نکتہ اعتراض پر تقریر نہیں کرسکتے، بولنے کی اجازت نہ ملنے پر شیخ رشید اور برجیس طاہر کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

شیخ رشید نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا ہماری خواتین اپنے شوہر کا نام نہیں لیتی تھیں اور شوہر کو گڈو کے ابا کہہ کر بلاتی تھیں، حکومت بھی اس اہم معاملہ کا اسی طرح نام نہیں لینا چاہتی، جس پر حکومتی رکن برجیس طاہر نے کہا کہ شیخ رشید چلا کر بات کرنے سے باز آئیں اور گڈو گڈو کا کھیل بند کریں، وہ بھی گڈو کے ابا ہوتے تو سمجھ آتی، شیخ رشید کیا جانیں گڈو کیا ہوتا ہے اور گڈو کا ابا کیا ہوتا ہے۔

ایم کیو ایم نے کراچی میں کارکنوں کے قتل اور امن و امان کی خراب صورتحال پر ایوان سے واک آٓؤٹ کیا، ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل کا کہنا تھا کہ کراچی میں ان کے کارکنوں کو چن چن کر مارا جارہا ہے، تاہم پاکستان کے تحفظ کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان سے روایتی سیاست کا خاتمہ چاہتی ہے، موروثی سیاست نے ملک کا بیڑا غرق کردیا، شہریوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کارکنوں کے ساتھ وہ سلوک ہوا جو دشمن ملک کے جاسوسوں سے بھی نہیں ہوتا، ایوان تحفظ فراہم نہیں کرسکتا تو یہاں بیٹھنا بے سود ہوگا، ایوان کا حصہ ہونے کے باوجود خود کو ملک میں اجنبی محسوس کرتے ہیں، لاپتہ کارکنوں کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں، چیف جسٹس سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube