Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

آفات و بدامنی میں گھرے سندھ کے 90 سالہ وزیراعلیٰ مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

SAMAA | - Posted: Mar 11, 2014 | Last Updated: 8 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 11, 2014 | Last Updated: 8 years ago

رپورٹ : ارباب چانڈیو

کراچی : وزيراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ماضی کے بادشاہوں کی ياد تازہ کردی، زلزلے، آندھی اور سیلاب جيسی آفتیں بھی سائیں کو نہ ہلا سکیں، سچ ہے قائم تو قائم، قائم کی کرسی بھی قائم۔

امن کا بحران ہو یا  قدرت کا امتحان، سید قائم علی شاہ نے کبھی ہار نہیں مانی، 1988ء میں بے نظیر بھٹو نے انہیں نااہلی کا الزام لگا کر چلتا کیا لیکن سائیں زرداری کے دور میں پھر اسی کرسی پر واپس آگئے، سائیں کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، حکومتیں بدلتیں رہیں لیکن سائیں اسی کرسی پر رہے۔

دو ہزار آٹھ ميں تاریخ کی بدترین دہشت گردی بھی ان کی کرسی نہ ہلا سکی،

2010ء میں سيلاب آیا تو سندھ کا 50 فيصد حصہ ڈوب گيا، لیکن سائیں کی وزارت تیرتی رہی، 2011ء ميں جنوبی سندھ ميں طوفانی بارشوں نے تباہی مچائی لیکن سائیں کی حکومت کی چھت نہ گری۔

سائیں کے دور کے تحفے غربت کی سطح دگنی ہوگئی، تعلیم کے میدان میں سندھ سب سے پیچھے رہ گیا، بلدياتی نظام اور محکمہ انہار کا ڈھانچہ تباہ لیکن سائیں ہرے کے ہرے رہ گئے، سائیں حریفوں کے پتے کاٹنے میں بھی ثانی نہیں رکھتے، اس کی تازہ مثال سيد اويس مظفر کی ہے۔

قائم علی شاہ کو سيد لابی کا مضبوط ستون سمجھا جاتا ہے اور ہر برے وقت سید لابی ان کے شانہ بشانہ نظر آتی ہے، سید قائم علی شاہ اپنے بزرگ کاندھوں پر درجن بھر وزارتوں کا بوجھ خوشی خوشی اٹھائے ہوئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 60 سال کی عمر ميں سرکاری ملازم ريٹائرڈ ہوجاتا ہے ليکن سيد قائم علی شاہ 90 سال کے ہونے کے باوجود ریٹائر ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube