Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

لاپتہ2افرادکاانتقال،عدالت کی33افرادپیش کرنےکیلئےوزیردفاع کو مہلت

SAMAA | - Posted: Dec 2, 2013 | Last Updated: 8 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 2, 2013 | Last Updated: 8 years ago

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 35 لاپتہ افراد میں سے 2 کا انتقال ہوگیا ہے، سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو گرفتار اور باقی 33 افراد کو منگل کو ہر صورت عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہٹانے کا خط لکھنے والے وزارت دفاع کے افسر کی بھی برطرفی کی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ پاکستان میں لاپتہ افراد پھر پیش نہ کئے جاسکے، 2 افراد کی ہلاکت کے انکشاف پر عدالت نے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں انکشاف کیا کہ انہیں وزیر دفاع نے بتایا ہے کہ 35 لاپتہ افراد میں سے یاسین شاہ اور نادر نامی 2 افراد کا انتقال ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ نے دونوں افراد کو مالاکنڈ جیل سے اٹھا کر لے جانے والے افسروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا اور رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے لاپتہ افراد کو پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت 5 ماہ سے ٹال مٹول کررہی ہے، لاپتہ افراد کو آج ہی پیش کیا جائے، عدالت کی طلبی پر وزیر دفاع نے آکر کہا کہ انہیں وزارت سنبھالے 4 روز  ہوئے ہیں، ایک دو دن مہلت دی جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر دفاع کا احترام کرتے ہیں صرف ان کی وجہ سے آج حکم جاری نہیں کررہے، عدالت نے لاپتہ افراد کو پیش کرنے کیلئے منگل ساڑھے 11 بجے تک آخری مہلت دیدی اور کہا کہ اس حوالے سے کوئی عذر قابل قبول نہیں ہو گا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انہیں وزارت دفاع کے افسر کی طرف سے ایک لیٹر بھی ملا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کیس کی پیروی سے ہٹادیا جائے جس سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔

عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ افسر کا خط عدالتی ریکارڈ سے متصادم ہے، اسے برطرف کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube