Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

توہین عدالت،وزیراعظم کی اپیل پرسماعت آج،11بجےتک دلائل مکمل کرنیکی ہدايت

SAMAA | - Posted: Feb 10, 2012 | Last Updated: 10 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 10, 2012 | Last Updated: 10 years ago

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : توہین عدالت کیس میں وزیراعظم کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت آج پھر سپریم کورٹ میں ہوگی۔ عدالت نے اعتزازاحسن کو 11 بجے تک دلائل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت پراثرانداز ہونا وزیراعظم کی نااہلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ سوئس عدالتوں کو خط لکھ دیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ نے انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے کہا اپیل میں ججوں کی رہائی سے متعلق شامل کئے گئے پیراگراف عدالت کو پریشان کرنے اور حیرت کا باعث ہیں۔ وزیر اعظم کے منصب پر فائز شخص کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔

کیا ججز کو رہا کرنے کے بدلے وزیر اعظم کو قانون سے بالاتر قرار دیا جائے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ مذکورہ پیرا گراف یہ ظاہر کرنے کیلئے ہیں کہ وزیر اعظم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا وزیر اعظم کا کسی عدالت پر اثر انداز ہونا آرٹیکل تریسٹھ اے جی کے تحت نا اہلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

بعد میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے انہیں تین پیرا گراف حذف کروانے کی استدعا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ان پیراگراف سے عدلیہ پر من پسند فیصلے کیلئے اثر ڈالا جا رہا تھا ۔ عدالت نے تین پیراگراف حذف کرنے کی اجازت دے دی۔چیف جسٹس نے کہا کہ این آر او کا فیصلہ خلاء میں نہیں،حقائق کے مطابق دیا۔

وزیر اعظم کو عدلیہ کا وقار برقرار رکھنے کے لیے فیصلے پر عمل کرنا چاہیئے۔سوئس عدالتوں کو خط لکھ دیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔

اعتزاز احسن نے کہا سوئس عدالتوں میں انیس سو ستانوے ، اٹھانوے میں کیس ختم ہو چکا ہے ، اب خط لکھنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اس کے پاس چھ آپشنز تھے ، وہ توہین عدالت سے گریز کر سکتی تھی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا آپ بتا دیں فیصلے پر عمل درآمد کیلئے کیا آپشن استعمال کیا جائے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ عمل درآمد کے معاملے پر دلائل دینے کے مجاز نہیں،

توہین عدالت پر بات کریں گے اور قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ پیراگراف 178 پر عمل درآمد ممکن ہی نہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا عدالت اس وقت توہین عدالت معاملہ تک محدود رہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا اگر عمل درآمد الگ معاملہ ہوتا تو توہین عدالت کی کارروائی کی نوبت نہ آتی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عمل درآمد اور توہین عدالت کے معاملے کو الگ نہیں دیکھ سکتے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے کا حکم قابل اپیل ہے، اس میں وجوہات دینا ضروری ہیں۔ جسٹس شاکر اللہ جان نے کہا کہ عبوری نوعیت کے احکامات پر وجوہات تحریر کرنا ضروری نہیں۔

عدالت نے اعتزاز احسن کو کل دن گیارہ بجے تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube