Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  16

بينظير کی سیکیورٹی میری ذمہ داری نہیں تھی: مشرف

SAMAA | - Posted: Feb 22, 2012 | Last Updated: 10 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 22, 2012 | Last Updated: 10 years ago

اسٹاف رپورٹ

کراچی: حکومتي بريفنگ ميں تو بينظير بھٹو کو وی وی آئی پی سيکيورٹي فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کيا گيا ہے ۔۔ تاہم سابق صدر پرویز مشرف کہتے ہيں اگر بينظير بھٹو گاڑی سے باہر نہ نکلتیں تو محفوظ رہتیں ۔۔ سیکیورٹی فراہم کرنا صدر مملکت کی ذمہ داری نہیں۔

وزیرداخلہ رحمان ملک نے اپنی بریفنگ میں جو کچھکہا وہ اپنی جگہہ لیکن سابق صدرجنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف نے اپنے اوپرعائد کئے گئے الزامات کے جوابات میں کئی باتیں واضح کی ہیں۔۔ اوررحمان ملک کے کئی الزمامات کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

رحمان ملک نے اپنی پریفنگ میں کہا کہ مشرف دور میں بھی بینظیر بھٹو کو وطن آنے سے روکا گیا۔ اس پر صابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود بے نظیربھٹو کو خطرات سے آگاہ کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ بینظیربھٹو چاہتی تھیں کہ ان کے خلاف تمام کیس ختم ہوجائیں۔

 پرویزمشرف کا کہنا تھا کہ ان کی بے نظیربھٹو سے دبئی میں 2 مرتبہ ملاقات ہوئی۔۔۔۔ اور ان ملاقاتوں میں رحمان ملک شامل نہیں تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کیس میں انھیں ملوث کیا جارہا ہے جبکہ سیکیورٹی فراہم کرنا صدرمملکت کی ذمہ داری نہیں۔

بےنظیرکی سیکیورٹی ان کے جیالے کررہے تھےاور۔۔۔۔ اگربے نظیر گاڑی کے اندرہوتیں تو محفوظ رہتیں۔

پریوز مشرف نے کہا کہ اپنے دورحکومت میں انھوں نے بینظیرقتل کیس کی تحقیقات بھی کرائی تھی۔ انھیں انٹرپول کے ذریعے پاکستان لائے جانے پرسابق صدرکا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی انٹرپول کی بات کی گئی تاہم ۔۔۔۔ پاکستان آکرعدالت جانے میں انھیں کوئی عار نہیں۔ وہ پاکستان آکر تمام مقدمات کا سامنا کریں گے اوران کا کیس حفیظ پیرزادہ لڑ رہے ہیں۔ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اب ہراس ایشو پرسیاست کی جارہی ہےجو ملک کے لئے خطرناک ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube