Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  16

این آر او کیس،وزیراعظم کو اظہار وجوہ میں توہین عدالت کا نوٹس جاری

SAMAA | - Posted: Jan 16, 2012 | Last Updated: 10 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 16, 2012 | Last Updated: 10 years ago

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : عدالت عظمیٰ نے این آر او عمل درآمد کیس سے متعلق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت پر شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

سپریم کورٹ میں این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت، 15 منٹ وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی۔

 سپریم کورٹ نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 19 جنوری کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم کو توہین عدالت کا نوٹس این آر او عمل در آمد کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔

سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں کیس کی سماعت کر رہا تھا۔ آج سماعت کے دوران اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور چیئرمین نیب بھی موجود تھے۔

اٹارنی جنرل نے سماعت کے آغاز میں جسٹس ناصر الملک کو بتایا کہ عدالت نے جن لوگوں کو حکم نامے کی نقول بھجوائیں ہیں انہیں حکم نامہ موصول ہو چکا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکم کا پیراگراف 6 بالکل واضح ہے۔ اس کے باوجود صدر یا وزیراعظم کی جانب سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔

جس پر جسٹس ناصر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ صدر اور وزیراعظم سے خود رابطہ کریں گے۔ ہدایات تو  آپ کو بھی دی گئی ہیں۔

جس کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیراعظم سے ہدایات نہیں ملیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے جواب پر جسٹس ناصر کا کہنا تھا کہ چھ آپشنز پر دلائل دینا ہوں گے اگر کسی نے اپنا دفاع کرنا ہے تو عدالت میں پیش ہو۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی حکم نامے کے عمل درآمد کے طریقہ کار پر دلائل دینا چاہتے ہیں۔

عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرانے کا اختیار ماتحت عدالت کے پاس ہے۔

مولوی انوار الحق کا مزید کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت کوئی بھی حکم نامہ جاری کرنا عدالت کی صوابدید ہے۔

لارجر بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ یہ مرحلہ ابھی نہیں آیا کہ ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے ذریعے عدالتی حکم پر عمل کرائیں۔

ابھی آپ ہمیں یہ بتائیں کہ فریقین چھ آپشنز کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

وزیراعظم کے بارے میں دیئے گئے ریمارکس کے بارے میں جسٹس آصف سعید کا کہنا تھا کہ ہم نے بادی النظر کے الفاظ استعمال کئے تھے

کہ حلف کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور حلف کی خلاف ورزی سے متعلق آئین بددیانت کا لفظ استعمال کرتا ہے۔

 جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ حکم 10جنوری کے فیصلے کے تناظر میں پڑھا جائے گا۔

ان حالات میں کوئی چارہ کار نہیں کہ ابتدائی اقدام کے طور پر توہین عدالت کی کارروائی کریں۔

جس پر عدالت نے  وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کو 19 جنوری کو  پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ این آر او کے اصل فیصلے کی پیرا 177 کے حوالے سے چھ آپشنز دیئے گئے تھے.

۔ 10جنوری کے فیصلے کے پیرا 6 کے تحت اٹارنی جنرل کو ہدایات دی گئی تھیں۔  کیس کی سماعت جمعرات 19 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube