Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

فراڈکیس،ہھتکڑی لگانے پرعدالت کااظہاربرہمی،بقیہ رقم جلداداکردونگا،خرم رسول

SAMAA | - Posted: Jan 27, 2012 | Last Updated: 10 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 27, 2012 | Last Updated: 10 years ago

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے خرم رسول کیخلاف ایل این جی فراڈ کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے  کہا کہ ڈی جی ایف آئی کے خلاف عدم تعمیل کے معاملہ کی سماعت دس فروری کو ہو گی ۔

خرم رسول کو چیف جسٹس کے روبرو پیش کیا گی ا جہاں اس نے بیان بھی دیا ۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ خرم رسول کا کہنا ہے کہ وہ خود پیش ہوا۔

یہ کیس نیب کے پاس جانا چاہیئے تھا۔ بینکنگ کورٹ میں کیسے چلا گیا ۔  انعام غنی، ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ یہ فراڈ بینک کے ذریعہ ہوا۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے ابھی تک بینک کا ایک بندہ گرفتار نہیں کیا، یہ کیسا بینکنگ کیس ہے۔

انعام غنی کا کہنا تھا  کہ خرم رسول نے گرفتاری نہیں دی ہم نے خود گرفتار کیا ہے اور یہ گرفتاری اسی نوعیت کے ایک اور کیس میں کی ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ خرم رسول کا کہنا ہے کہ میں سرنڈر کرنے آ رہا تھا تاہم  عدالتی حکم کے ایک حصہ کی تعمیل ہو چکی ہے اب قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

شکایت کنندگان کا دفعہ ایک سو چونسٹھ  کا بیان سند کی حیثیت رکھتا ہے اس میں خوشنود لاشاری، وسیم احمد اور ملک کا نام بھی آ گیا ہے ۔ ان افسران کا جوابی بیان کافی نہیں، ایف آئی اے کو سوال و جواب کرنا ہوں گے ۔

کوئی شخص اس معاملہ کی سنگینی کو صحیح طرح نہیں سمجھ رہا ۔ خرم رسول نے کہا کہ یہ ایک کاروباری ڈیل تھی، فراڈ نہیں ہے اسی فیصد ادائیگیاں کرچکا ہوں، دس ، گیارہ  کروڑ روپے باقی ہیں  یہ رقم بھی جلد ادا کردوں گا۔

 وزیراعظم کو بلاوجہ اس معاملے میں ملوث کیا جا رہا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ  درخواست گزار مجھے مسلسل دھمکیاں آمیز ایس ایم ایس بھجوا رہے ہیں ۔ میری بیوی کو بھی اغوا کرنے کی کوشش کی گئی ، بنیادی طور پر کاروباری آدمی ہوں ، وزیراعظم کا میڈیا کوآرڈینیٹر بنا تو کاروبار چھوڑ دیا ۔

شکایت کنندہ کے وکیل  رشید اے رضوی  نے کہا کہ کوئی ادائیگی نہیں کی گئی جو چیک دیئے تھے وہ واپس ہو گئے ۔ ساری ڈیل وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر کی گئی ۔  چیف جسٹس نے کہا کہ  ڈی جی ایف آئی اے کہاں ہے اس نے ہمارے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے رشید اے رضوی کی سارا معاملہ سپریم کورٹ میں چلانے کی استدعا مسترد کردی اور قرار دیا کہ کیس متعلقہ فورم پر ہی چلنا چاہیئے ، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ خرم رسول فراڈ کیس میں دفعہ 164 کے تحت آنے والے بیانات میں بڑے بڑوں کے نام ہیں۔ یہ کیس اب بہت ہائی پروفائل بن گیا ہے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube