Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

اندرون سندھ بارش متاثرین کا احتجاج، کئی علاقےڈوب گئے

SAMAA | - Posted: Sep 9, 2011 | Last Updated: 11 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 9, 2011 | Last Updated: 11 years ago

اسٹاف رپورٹ

کراچی: اندرون سندھ مختلف شہروں میں مسلسل بارش اورسیلاب سے متاثرہ علاقوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

کئی مقامات پر نہروں اور نالوں میں مزید شگاف پڑنے سے کئی دیہات زیرآب آگئے۔ جب کہ مختلف حادثات و واقعات میں مزید تین افراد جاں بحق ہوگئے۔

یہ نوشہروفیروز کا نواحی گاؤں ہے جہاں سیلابی ریلے میں وسیع زرعی اراضی بھی ڈوب گئی اور کئی گھر سیلاب کی نظر ہو کربہہ گئے۔ علاقہ مکین بچا کھچا سامنا سمیٹ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

بعض شہری اپنی مدد آپ کے تحت سیلابی ریلے کے سامنے عارضی بند باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں مشکل گھڑی میں تنہا چھوڑ دیا گیا۔

نواب شاہ کے کئی دیہات بھی دریا کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ گپچنی سیم نالے میں طغیانی کی وجہ سے پچیس برس کا نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔

متاثرین کا انتظامیہ کی جانب سے امداد نہ ملنے پر احتجاج بھی جا ری ہے۔

دادو میں بھی سیلاب کی صورتحال مختلف نہیں۔ سیلابی ریلے نے کئی دیہات تباہ کر ڈالے اور متاثرین کی مدد کرنے کے بجائے این جی اوز کی جانب سے دیا گیا سامان بھی چھین لیا گیا جس پر وہ سراپا احتجاج بن گئے۔

ضلع ٹھٹھہ میں بھی صورتحال ابتر ہے۔ سیم نالوں میں طغیانی سے تحصیل جاتی میں دو اور میرپور بٹھورو کی آٹھ یونین کونسلوں میں وسیع علاقہ زیرآب آگیا اور علاقے میں گیسٹرو اور جلد کے امراض پھیل رہے ہیں۔

 خیرپور میں تھری میر واہ کے گاؤں میں متاثرین کے ریلیف کیمپ میں گیسڑو کا شکار ہو کر دو برس کا بچہ دم توڑ گیا۔ مورو میں بھی گیسٹرو کا مریض چل بسا۔ ادھر سانگھڑ کے علاقے گھارون میں بارش کی وجہ کئی علاقے زیرآب آگئے۔ متاثرین نے بروقت انتظامات نہ کرنے پر انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube