سینیٹ انتخابات ، فساد کی جڑ

مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات جوں جوں قریب آرہے ہیں۔ ویسے ویسے وفاق اور صوبوں میں حکومت مخالف سازشیں زور پکڑ رہی ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال بلوچستان اسمبلی میں پیش کی جانے والی متوقع تحریک عدم اعتماد ہے۔

ویسے تو صوبہ بلوچستان سے متعلق خبریں برقی میڈیا کی زینت کم ہی بنتی ہیں اور اکّا دکّا میزبان ہی بلوچستان صوبے کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اس پر کوئی پروگرام کریں۔

لیکن جب سے بلوچستان اسمبلی میں استعفوں کا سلسلہ شروع ہواہے اور وزیراعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ نیوز بلیٹنز اور حالات حاضرہ کے شوز اس ایشو پر بحث کررہے ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایشو کتنا سنجیدہ اور اہمیت کا حامل ہے۔

ایسے وقت میں جب کہ پاکستان تحریک حکومت مخالف متعدد تحاریک میں ناکام ہوچکی ہے اور آئندہ انتخابات سے قبل حکومت کو گھر بھیجنے پر بضد ہے۔ ایسے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی حکومت کو فارغ کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ جس کی یقیناً وجہ سینیٹ انتخابات ہیں۔ جسمیں پاکستان مسلم لیگ نواز کی متوقع اکثریت سے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی خوفزدہ ہیں۔

قدرے کم طاقت ور اور معصوم نظر آنے والی سینیٹ ایسی آئینی اہمیت کی حامل ہے کہ جس کی منظوری کے بغیر عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی قومی اسمبلی بھی کوئی قانون سازی نہیں کرسکتی۔ اس آئنینی قد غن کی وجہ سے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ جس جماعت کی قومی اسمبلی میں اکثریت ہو۔ اسی جماعت کی اکثریت سینیٹ میں بھی ہو۔ وگرنہ حکومتی جماعت کو سینیٹ میں اکثریت رکھنے والی سیاسی جماعت کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے منظور شدہ قانون کو سینیٹ سے منظور کروانا پڑتا ہے۔

ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ہر تین سال بعد ہونے والے سینیٹ انتخابات ایسے وقت میں ہونے جارہے ہیں۔ جب کوئی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے قریب ہے اور چونکہ مارچ میں ہونے والے انتخابات کے وقت وفاق سمیت پنجاب اور بلوچستان میں نواز لیگ کی اکثریت ہے۔ چنانچہ نواز لیگ باآسانی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیگی۔

2013 کے انتخابات کے بعد 5 سال مکمل کرنے والی نواز لیگ کی حکومت اپنا دور اقتدار تو مکمل کرنے کو ہے۔ لیکن سینیٹ کے ان انتخابات کی اس وقتی اہمیت کی اصل وجہ اگلے سینیٹ انتخابات تک نواز لیگ کو سینیٹ میں حاصل ہونے والی متوقع اکثریت ہے۔

سینیٹ کے انتخابات کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں حکومت پاکستان پیپلز پارٹی بنائے یا پاکستان تحریک انصاف۔ نواز لیگ کی سینیٹ میں اکثریت ہونے کی وجہ سے کسی بھی جماعت کی حکومت قانون سازی میں بے بس ہی رہے گی اور نواز لیگ حکومت میں ناہوتے ہوئے بھی برسر اقتدار جماعت سے اپنے مطالبات منوائے گی۔

جیسےموجودہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے۔ نواز لیگ 2013 میں وفاق سمیت پنجاب اور بلوچستان میں حکومت بنانے کے باوجود سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ جس کی وجہ سے نواز لیگ کو آئنینی ترامیم سینیٹ سے منظور کروانے کیلئے پیپلز پارٹی کی جائز و ناجائز شرائط کو پوراکرنا پڑا۔

موجودہ سیاسی صورتحال میں اگر وزیر اعلی بلوچستان کے خلاف تحریک اعتماد کامیاب بھی ہوتی ہے تو اس سے سینیٹ انتخابات متاثر نہیں ہونگے۔ لیکن اگر موجودہ وزیر اعلی ثنا اللہ زہری کی چھٹی کے بعد نئے بنے والے وزیراعلی بلوچستان اسمبلی توڑ دیتے ہیں۔ تو یقینی طور پر سینیٹ انتخابات کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اگر بلوچستان اسمبلی کے بعد تحریک انصاف خیبر پختونخوا اسمبلی اور پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی توڑ دیتی ہے تو سینیٹ انتخابات کا انعقاد یقینی طور پر مشکل ہوجائیگا اور اس کی وجہ سینیٹ انتخابات کے الیکٹورل کالج میں شامل 4 اسمبلیوں میں سے 3 اسمبلیوں کا ناہونا ہوگا۔

سینیٹ انتخابات کے انعقاد سے یقینی طور پر وفاقی حکومت کا مستقبل بھی جڑا ہے اور اگر 3 صوبائی اسمبلیاں قائم نہیں رہتی تو یقینی طور آئینی بحران پیدا ہوگا۔ جس کی وجہ سے نواز لیگ کیلئے وفاق سمیت پنجاب میں حکومت چلانا ممکن نہیں ہوگا۔ جس کے بعد عام انتخابات کا وقت سے پہلے ہی انعقاد یقینی ہوجائیگا۔ جس کا مطالبہ پہلے عمران خان اور پھر سابق صدر آصف علی زرداری کرچکے ہیں۔

Politics

SANA ULLAH ZEHRI

cm balochistan

No trust motion

Tabool ads will show in this div