پاکستانی شاہین کیویز پر جھپٹنے کے لیے تیار

نیوزی لینڈ کے دورے سے پاکستان نئے سال کے کرکٹ سیزن کاآغازکررہا ہے۔ پاکستان کونیوزی لینڈ کے دورے میں 5 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوینٹی میچزکھیلنا ہے۔ پاکستان کے لیے اس دورے میں بہت کچھ حاصل کرنامقصد ہے۔ نیوزی لینڈ کی کنڈیشن پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔ باؤنسی وکٹ پاکستان کے بیٹسمین کا اصل امتحان ہونگی۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم سیزن میں مسلسل کرکٹ کھیل رہی ہے۔ ان کے کھلاڑیوں نے بگ بیش میں بھی حصہ لیا۔ ان کی میچ پریکٹس پاکستان سے زیادہ ہے۔ پاکستان نے دو ماہ سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی بین الاقوامی لیگز میں اس دوران کارکردگی ملی جلی رہی۔

پاکستان کے کپتان سرفرازکےلیے یہ دورہ انتہائی اہمیت کاحامل ہوگا۔ ان کے کپتان بننے کےبعدپاکستان نے انگلینڈ میں چیمپیئنزٹرافی میں کامیابی حاصل کی۔وہ جیت پاکستان کےمورال کےلیے بہت اہم تھی۔پاکستان نے اس کامیابی سے بہت کچھ سیکھا۔ تاہم اب ایک نیا میدان اور نیا ماحول ہوگا۔ نیوزی لینڈ میں پاکستان کے بالرز نپی تلی بالنگ سے مخالف کوپریشان کرسکتےہیں۔پاکستان کے کھلاڑیوں میں اتنی صلاحیت موجود ہےکہ وہ کم رنز پر نیوزی لینڈ کو ڈھیر کرسکیں۔ مگر نیوزی لینڈ اپنے ہوم گراؤنڈمیں سخت حریف ثابت ہوگی۔ نیوزی لینڈ کے کھلاڑی کسی بھی دن مخالف ٹیم کو اپ سیٹ کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان کھلاڑی اس دورے سے بہت توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ حسن علی اور شاداب خان کےپاس اپنے آپ کو منوانےکاسنہراموقع ہے۔ رومان رئیس اور بابر اعظم بھی بھرپورٹیلنٹ کا استعمال کرتےہوئے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کرسکتےہیں۔فہیم اشرف بھی آل راؤنڈرکے طورپرپاکستان کی ٹیم میں جگہ پکی کرسکتےہیں۔ محمد عامر پاکستان کا بلاشبہ ٹرمپ کارڈ ہونگے۔ ان کی کاٹ دار بالنگ پاکستان کی کارکردگی میں جان ڈال دے گی۔ سیم اور سوئنگ کنڈیشن میں محمد عامر کوکھیلنا انتہائی مشکل کاکام ہوگا۔

اوپننگ کے شعبے میں محمد حفیظ کاساتھ دینے اظہرعلی اورفخرزمان ہونگے۔ خاص طورپر فخر زمان کواپنی کارکردگی سے مخالفین کے منہ بند کروانا ہونگے۔ فخر نے سری لنکا کے خلاف سیریز میں خاطر خوا نتائج نہیں دئیے۔ ان پر اس دورے میں خاصا دباؤ ہوگا۔

کپتان سرفراز کوفرنٹ سے لیڈ کرتےہوئے پاکستان کو اس سیریز میں جتواناہوگا۔سرفراز ایک منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ انھوں نے کئی بارپاکستان کو مشکل صورتحال سے نکالا۔ تاہم اس بار کپتانی کابوجھ سرفرازکی صلاحیتوں کاامتحان ہوگا۔سرفراز کو بیٹنگ میں بھی جوہردکھاناہونگے۔

پاکستان کی ٹیم کاغذ پر اگرچہ نیوزی لینڈ سے مضبوط ہے مگر گراؤنڈ میں پاکستان کی کارکردگی انتہائی اہم ہوگی۔ پاکستان کو نیوزی لینڈ کی کنڈیشزمیں جان لگانی ہوگی۔ جیت کے لیے کھلاڑیوں کو اس جذبے کوبرقرار رکھناہوگاجوجوش پاکستان نے چیمپیئنزٹرافی کے دوران دکھایا۔ اگر پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیت کے عین مطابق پرفارم کیاتو کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اس سیریز میں کامیاب ہوجائے۔

 

2nd odi

2018 cricket

New Zealand vs Pakistan

Tabool ads will show in this div