بلوچستان اور سندھ میں داعش کی موجودگی کا انکشاف

Jan 08, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/01/Security-Report-Isb-Pkg-08-01.mp4"][/video]

اسلام آباد : امن کي طرف بڑا قدم ضرب عضب کاميابي کي طرف گامزن ہے، دو ہزار سترہ ميں دہشت گردي سولہ فيصد کم ہوئي۔ کالعدم ٹي ٹي پي اور قوم پرست عسکريت بدستور خطرہ ہيں، پاکستاني تھنک ٹيںک کي رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان اور شمالي سندھ ميں اب بھی داعش موجود ہے۔

پاکستانی تھنک ٹینک نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور قوم پرست عسکریت پسندوں کو امن و امان اور سلامتي کيلئے اب بھي مہلک خطرہ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی داعش کی موجودگی کی بھی گھنٹی بجا دی۔ تھنک ٹینک رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومتی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ابہام رہا۔

تھنک ٹينک نے اپنی رپورٹ میں نیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی کی سفارش بھی کی ہے، جب کہ سندھ اور بلوچستان ميں داعش کی موجودگی کا انکشاف بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔

پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سال 2017ء میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت 16 فیصد کمی ہوئی ۔ 2017 میں دہشتگردی کے 370 حملوں میں 815 افراد ہلاک جبکہ 1736 زخمی ہوئے۔

فرقہ وارانہ دہشتگردی کے 19 واقعات میں 71 افراد ہلاک اور 97 زخمی ہوئے۔ بہادر سیکورٹی فورسز نے 2017ء میں 524 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔

رپورٹ نے تحریک طالبان پاکستان ۔ بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کو مہلک خطرہ قرار دیا ہے، رپورٹ میں داعش کی بلوچستان اور شمالی سندھ میں موجودگی کا بھی انکشاف کیا گیا ہے، بتایا کہ پاکستان میں داعش اور اس کے حمایتیوں کے 6 حملوں میں 153 افراد ہلاک ہوئے۔

سال 2016 کے مقابلے میں افغانستان ۔ بھارت اور ایران سے سرحد پار حملوں میں 131 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا 171 حملوں میں 188 افراد ہلاک جبکہ 348 زخمی ہوئے، تھینک ٹینک نے عسکریت پسندوں کو مرکزی دھارے میں لانے اور نیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی کی سفارش کردی۔ سماء

DESH

THINK TANK

Tabool ads will show in this div